حکومت پنجاب کا سی سی ڈی کو پریمیئر انوسٹی گیشن ایجنسی بنانے کا فیصلہ
فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو پریمیئر انوسٹیگیشن ایجنسی بنانے کا فیصلہ کیا اور خواتین پر تیزاب چھڑکنے والوں سے نمٹنے کا ٹاسک سی سی ڈی کو دے دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت ہوئے اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ اجلاس میں جرائم کے خاتمے اور عوامی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے سی سی ڈی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سی سی ڈی کو دنیا کے 5 بہترین جرائم کنٹرول کرنے والے اداروں کی طرز پر استوار کیا جائے گا، جدید فارنزک، تفتیشی مہارت، ماڈرن ٹیکنالوجی، اے آئی سافٹ ویئر، جدید ترین انٹیلی جنس سرویلنس، مشینری اور آلات سے سی سی ڈیز کو پاکستان کے سب سے جدید ترین ادارے میں بدلا جائے گا۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ مجرموں کا سراغ لگانے اور ان کی مانیٹرنگ کے جدید ترین آلات بھی سی سی ڈی کو فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلی مریم نواز نے سی سی ڈی کے ہیڈکوارٹرز کو جدید ترین آلات سے لیس کرنے کی بھی منظوری دے دی اور فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے ہر ڈویژن، ضلع اور تحصیل میں سی سی ڈی آفس، تھانے اور رہائش گاہیں بنائی جائیں گی۔
اجلاس میں عید الفطر کے بعد پنجاب بھر میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف مہم کی بھی منظوری دی گئی اور بتایا گیا کہ سی سی ڈی کے اقدامات سے پنجاب میں قتل اور خواتین کے خلاف جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔
سی سی ڈی کے اقدامات کے حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب میں ڈکیتی کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت 77 فیصد کمی آئی، موبائل اور بیگ چھننے کے واقعات میں 49 فیصد، گاڑی چوری میں 17، اقدام قتل میں 31، اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے غیرقانونی اسلحہ کے سدباب کے لیے نیا قانون بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلی مریم نواز نے خواتین پر تیزاب چھڑکنے والوں سے نمٹنے کا ٹاسک سی سی ڈی کو دے دیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سی سی ڈی میں جرائم کے خاتمے کے جدید تحقیقی مرکز بھی قائم کیے جائیں گے۔