کینسر کے پھیلاؤ کی پیشگوئی کرنے والا نیا اے آئی نظام تیار
سائنس دانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت کا ایک نظام تیار کیا ہے جو کینسر کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے امکانات سے متعلق پیشگوئی کر سکتا ہے۔
’مینگروو جی ایس‘ کا نام پانے والا یہ اے آئی سسٹم جینز کی پیچیدہ سرگرمیوں کے نمونوں کا تجزیہ کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ کسی ٹیومر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے کے امکانات کتنے ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے سیل رپورٹس میں شائع ہوئی ہے اور مستقبل میں ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں میں میٹاسٹیسس (یعنی کینسر کے پھیلاؤ) کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔
کینسر کے بارے میں سب سے بڑی سائنسی پہیلیوں میں سے ایک یہ رہی ہے کہ کچھ ٹیومر پھیلتے کیوں نہیں جبکہ بعض تیزی سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ خاص طور پر بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر میں جب بیماری پھیل جائے تو موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
جنیوا یونیورسٹی میں جینیاتی طب اور نشوونما کے پروفیسر ایریل روئز آئی آلتابا کے مطابق کینسر کو صرف خلیات کی بے ترتیب میں نموسمجھنا درست نہیں۔ دراصل اسے حیاتیاتی پروگراموں کے ایک مجموعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو عام طور پر جسم کی ابتدائی نشوونما کے دوران فعال ہوتے ہیں، مگر بعد میں غلط وقت یا غلط جگہ پر دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔
اس عمل کو سمجھنے کے لیے محققین نے بڑی آنت کے ٹیومرز سے حاصل کیے گئے کلون شدہ خلیات کا استعمال کیا۔ انہوں نے سینکڑوں جینز کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ مختلف خلیات کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو جینز کی کچھ خاص سرگرمیاں ایسی ملیں جو خلیات کی کینسر پھیلانے کی صلاحیت سے مضبوط تعلق رکھتی تھیں۔
اسی معلومات کی بنیاد پر محققین نے ’مینگروو جین سگنیچرز‘ تیار کیے ، جو کہ اے آئی پر مبنی نظام ہے جو بیک وقت درجنوں بلکہ سینکڑوں جینیاتی سگنیچرز کا تجزیہ کر کے کینسر کے پھیلاؤ کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہے۔