ایرانی حملوں پر سعودی عرب کی کابینہ کا سخت ردعمل سامنے آ گیا
فوٹو: فائل
سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
کابینہ نے مملکت کے فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دفاعی فورسز نے حالیہ حملوں کے دوران اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا۔
سعودی میڈیا کے مطابق کابینہ نے ایران کی جانب سے سعودی عرب، خلیجی ممالک اور دیگر عرب ریاستوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ شہری علاقوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
کابینہ نے اس موقع پر خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے مشترکہ وزارتی اجلاس کو مثبت پیش رفت قرار دیا جبکہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایرانی کارروائیوں کے خلاف منظور کی جانے والی مذمتی قراردادوں کو بھی اہم قرار دیا گیا۔