سی ڈی اے میں پلاٹس کی مشتبہ الاٹمنٹ، قومی خزانے کو ایک ارب کے نقصان کا انکشاف

ڈی جی ایف آئی اے نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو گرفتار افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات پیش کردیں

اسلام آ باد:

سی ڈی اے میں پلاٹس  کی مشتبہ الاٹمنٹ کے نتیجے میں قومی  خزانے کو ایک ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس شاہدہ گل کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں بڑے اسکینڈل سے متعلق ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سی ڈی اے میں 43 پلاٹس کی مشتبہ الاٹمنٹ کے باعث قومی خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں 43 پلاٹس کی الاٹمنٹ پر سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی جبکہ آڈٹ رپورٹ میں سی ڈی اے کی لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ 43 پلاٹس کی الاٹمنٹ کا معاملہ تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے پاس ہے۔

اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو گرفتار افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات بھی پیش کیں اور بتایا کہ اس کیس میں ایک ارب روپے سے زائد کی تحقیقات کا کیس بنایا گیا ہے۔ اس معاملے میں 4 ایڈیشنل سیکرٹریز اور 7 ڈپٹی ڈائریکٹرز سمیت 20 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ اس کیس میں مجموعی طور پر 57 ملزمان کے خلاف کارروائی جاری ہے جن میں سے 46 گرفتار ہیں جبکہ تقریباً 37 افراد کے خلاف مقدمات جاری ہیں جو اس وقت ضمانت پر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملوث افراد کے مختلف سیکٹرز میں قیمتی پلاٹس بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں اور ان تمام افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 43 پلاٹس کی الاٹمنٹ میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی۔ آڈٹ ٹیم کو 41 پلاٹس کی فائلیں ریکارڈ روم سے دستیاب نہیں ہو سکیں جبکہ صرف 2 پلاٹس کی فائلیں آڈٹ حکام کو فراہم کی جا سکیں۔

آڈٹ رپورٹ میں فائلوں کے غائب ہونے کے باعث اربوں روپے مالیت کی اراضی کی الاٹمنٹ کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ آڈٹ حکام نے سی ڈی اے کی مبینہ بے ضابطگیوں پر جون 2023 میں اعتراض بھی اٹھایا تھا۔

اجلاس کے دوران شاہدہ گل نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے اس معاملے پر کیا کررہا ہے؟ اس سے پہلے ایک اور کیس میں 50 سے زائد افراد ملوث تھے۔ ایک دو فرد کی بات سمجھ آتی ہے لیکن ایک ہی ادارے کے اتنی تعداد میں افراد کا کرپشن میں ملوث ہونا پریشان کن ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایک ایک کنال زمین کا معاوضہ 18 سال بعد 8 لاکھ روپے دیا جارہا ہے۔  یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ان کی زمینوں کا یہ معاوضہ صحیح ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ہم اس معاملے کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ کروڑوں روپے کے جعلی چیک بنائے گئے، یتیم افراد کی زمین پر قبضہ کیا گیا۔ فوت شدہ افراد کے نام کے 6 کروڑ چیک بنا کر تقسیمِ کیے گئے۔ تقریباً 30 کروڑ کی رقم جعلی افراد کو دی گئی اور حق دار کو محروم رکھا گیا۔

بلال مندوخیل نے کہا کہ یہ تو سب کچھ سی ڈی اے نے کیا ہے، جب سی ڈی اے یہ چیک بنا رہا تھا تو کوئی دیکھنے والے نہیں تھے؟ ، جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سب ملوث افراد کیخلاف کریمنل کیس ہوئے ہیں اور بندے گرفتار ہوئے ہیں۔

Load Next Story