زیادہ چکنائی والی غذا دماغ پر ایک غیر متوقع اثر ڈال سکتی ہے: تحقیق

یہ تحقیق امریکی ریاست جورجیا میں موجود ایموری یونیورسٹی میں چوہوں پر کی گئی

تازہ ترین تحقیق کے مطابق زیادہ چکنائی والی غذا دماغ پر ایک غیر متوقع اثر ڈال سکتی ہے۔

امریکی ریاست جورجیا میں موجود ایموری یونیورسٹی میں چوہوں پر کی گئی ایک نئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ جب انہیں زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی تو آنتوں میں موجود بیکٹیریا کا توازن بگڑ گیا۔ اس صورتحال میں زندہ بیکٹیریا آنتوں سے نکل کر ویگس نرو کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ویگس نرو اعصابی نظام کا وہ اہم حصہ ہے جو دماغ کے نچلے حصے (برین اسٹیم) کو دل، پھیپھڑوں اور معدے سے جوڑتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اعصابی بیماریوں کی سمجھ بوجھ کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ الزائمرز بیماری اور پارکنسنز بیماری میں مبتلا چوہوں کے دماغ میں بھی بیکٹیریا کی کم مقدار موجود تھی۔

ایموری ویکسین سینٹر اور ایموری یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن کے شعبہ متعدی امراض سے وابستہ ڈیوڈ ویز نے بتایا کہ اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ اعصابی بیماریوں کی ابتدا ممکنہ طور پر آنتوں سے ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دریافت سے دماغی بیماریوں کے علاج کی حکمت عملی بدل سکتی ہے، کیونکہ مستقبل میں علاج کا ہدف دماغ کے بجائے آنتیں بھی بن سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اعصابی امراض میں مبتلا افراد کے علاج پر اس کے حیران کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story