ایران جنگ پر تنقیدی رپورٹنگ مہنگی پڑ سکتی ہے؟ ٹرمپ حکومت کی امریکی میڈیا کو سخت دھمکی

کئی سیاستدانوں اور آزادیٔ اظہار کے حامی افراد نے اسے میڈیا پر دباؤ ڈالنے اور سنسرشپ کی کوشش قرار دیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر تنقیدی رپورٹنگ کرنے والے میڈیا اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے مبینہ طور پر غلط یا گمراہ کن معلومات نشر کیں تو ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

امریکا کے میڈیا ریگولیٹری ادارے ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کیر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نشریاتی اداروں کو عوامی مفاد میں کام کرنا چاہیے، بصورت دیگر انہیں اپنے لائسنس سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو نشریاتی ادارے جعلی خبریں یا مسخ شدہ معلومات نشر کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی پالیسی درست کر لیں کیونکہ جلد ہی ان کے لائسنس کی تجدید کا مرحلہ آنے والا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بعض امریکی میڈیا ادارے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے غلط رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ میڈیا نے یہ خبر پھیلائی کہ سعودی عرب میں ایرانی حملے میں امریکی ایندھن بردار طیارے تباہ ہو گئے، حالانکہ حقیقت میں طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا اور وہ دوبارہ سروس میں آ چکے ہیں۔

اس بیان پر امریکا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی سیاستدانوں اور آزادیٔ اظہار کے حامی افراد نے اسے میڈیا پر دباؤ ڈالنے اور سنسرشپ کی کوشش قرار دیا ہے۔

امریکی سینیٹر برائن شاٹز نے کہا کہ یہ واضح پیغام ہے کہ اگر میڈیا جنگ کے بارے میں مثبت رپورٹنگ نہ کرے تو اس کے لائسنس کی تجدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو زیادہ محب وطن انداز میں خبریں نشر کرنی چاہئیں۔ انہوں نے خاص طور پر سی این این کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بعض ٹی وی چینلز جنگ کے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں 53 فیصد ووٹرز ایران کے خلاف اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

Load Next Story