طالبان مظالم کیخلاف افغان سیاسی قیادت کی مزاحمت میں شدت

اگر افغانستان سب کیلئے نہیں ہوگا تو پھر یہ کسی  کیلئے بھی نہیں ہوگا، سابق نائب افغان صدر

دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی پر طالبان رجیم کے خلاف افغان رہنما کھل کر آواز اٹھانے لگے۔

افغان طالبان نہ صرف عالمی سطح پر تنہا ہو چکے ہیں بلکہ افغانستان میں عوامی اور سیاسی مزاحمت زور پکڑ رہی ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق سابق نائب صدر افغانستان سرور دانش نے کہا ہے کہ طالبان رجیم نہ صرف امن قائم کرنے میں ناکام ہیں بلکہ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے افغانستان پر بیرونی جارحیت کی راہ کھول دی ہے۔

سابق نائب صدر افغانستان سروردانش کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان سب کیلئے نہیں ہوگا تو پھر یہ کسی کیلئے بھی نہیں ہوگا، افغان طالبان رجیم کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق قائم کرنا یا اس گروہ کو تسلیم کرنا قانونی جواز سے خالی ہے۔

سروردانش نے کہا کہ موجودہ حالات میں افغان طالبان کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں اور نہ ہی ان کا افغانستان کے عوام کی خواہش سے کوئی تعلق ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق نیشنل اسلامک موومنٹ کے سربراہ عبدالرشید دوستم کا کہنا ہے کہ
طالبان رجیم کی شدت پسند اور جبر آمیز حکمرانی نہ صرف ناکام ہو چکی ہے بلکہ افغان عوام کے بنیادی حقوق کیلئے بھی شدید خطرہ بن گئی ہے۔

عبدالرشید دوستم نے کہا کہ افغان طالبان کے ظلم کے خلاف مزاحمت شدت اختیار کر چکی ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر نہیں روکا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی پالیسیوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی نے افغانستان میں عوامی اور سیاسی مزاحمت کو بڑھاوا دیا ہے، افغان طالبان کے ظلم اوردہشت گردوں کی پشت پناہی کے خلاف بڑھتی داخلی مزاحمت افغانستان کے مستقبل کے لیے سنگین اشارہ ہے۔

Load Next Story