بغیر سفری دستاویزات کے گرفتار افغان مہاجرین کی درخواستوں پر تحریری تفصیلی فیصلہ جاری
ججز کو سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کیا ترجیحی بنیادوں پر ہورہی ہے؟ پشاور ہائیکورٹ
پشاور ہائی کورٹ نے بغیر سفری دستاویزات کے گرفتار افغان مہاجرین کی درخواستوں پر تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلہ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے تحریر کیا، جس میں عدالت نے تمام درخواستیں خارج کر دیں۔
عدالت کے مطابق درخواست گزار افغان باشندے ہیں اور ان کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے کوئی قانونی یا سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس پر انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کو فارن ایکٹ 1946 کے سیکشن 14 کے تحت حراست میں لیا گیا، جبکہ حکومتِ پاکستان پہلے ہی بغیر دستاویزات کے مقیم افغان مہاجرین سے متعلق اعلامیہ جاری کر چکی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے اور ان کے پاس رہائش کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے، لہٰذا متعلقہ ادارے درخواست گزاروں کی ملک بدری کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
پشاور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر ملزمان کے خلاف ٹرائل مکمل کیا جائے، جبکہ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی کیسز فوری طور پر عدالتوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے فیصلے کی نقول آئی جی خیبر پختونخوا، جیل سپرنٹنڈنٹ پشاور اور ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو عملدرآمد کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی جاری کی۔