پاک-افغان کشیدگی؛ غیر مسلح افراد کی جانوں کی قدرہرحال میں مقدم ہونی چاہیے، جنرل (ر) سعید

افغانستان میں طالبان کی حکومت میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں 5 ہزار شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں

فوٹو: فائل

لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کابل میں شہری مقام کو نشانہ بنائے جانے کے افغان طالبان حکومت کے دعوؤں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرمسلح افراد کی قدرہر حال میں مقدم ہونی چاہیے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ افغان طالبان کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جنگی کارروائیوں میں شہریوں کا نقصان ہمیشہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی قوانین کے لیے باعث تشویش رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر مسلح افراد کی جانوں کی قدرہرحال میں مقدم ہونی چاہیے، افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پرافغانستان سے کام کرنے والے گروہوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 5 ہزار پاکستانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ان گروپس میں شامل 60 سے 70 فیصد تک عناصر افغان شہریوں پر مشتمل ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ افغان طالبان کے کابل میں حالیہ حملے سے متعلق دعوؤں پر شکوک پائے جاتے ہیں، کیا صرف ایک فریق کا بیان حتمی ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کسی بحالی مرکز یا شہری مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے تو افغان حکام کو چاہیے کہ غیر جانب دار بین الاقوامی میڈیا کو موقعے پر لے جا کر حقائق دنیا کے سامنے رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسلسل دھماکوں اور آگ بھڑکنے کے مناظر دیکھے گئے، جو مبینہ طور پر اسلحہ ذخیرہ گاہ کو نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اوراسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر واقعی سیکڑوں شہری ہلاکتوں کا دعویٰ درست ہے تو اجتماعی جنازے یا واضح شواہد کیوں پیش نہیں کیے گئے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) سعید نے کہا کہ اس طرح کے دعوؤں اور جوابی بیانات کے درمیان حقیقت تک رسائی کے لیے شفاف تحقیقات اور غیرجانب دار ذرائع کی تصدیق ناگزیر ہے تاکہ شہری جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی غلط معلومات یا پروپیگنڈے سے بچا جا سکے۔

Load Next Story