پلاسٹک کی بوتل سے خطرناک بیماری کی دوا تیار

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پلاسٹک کچرے کو قدرتی حیاتیاتی عمل سے تلف کرتے ہوئے اعصابی بیماری کے لیے ایک دوا بنایا گیا ہے

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک بیکٹیریا کا استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک کی بوتلوں سے ایک دوا بنائی گئی ہے جو پارکنسنز (رعشہ) بیماری کا علاج کرے گی۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پلاسٹک کچرے کو قدرتی حیاتیاتی عمل سے تلف کرتے ہوئے اعصابی بیماری کے لیے ایک دوا بنایا گیا ہے تاکہ اس کیفیت میں مبتلا افراد کی زندگی بہتر بنائی جا سکے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنس دانوں نے ای کولی نامی بیکٹیریا کو انجینئر کر کے ایسا بنایا جو غذا اور مشروبات کی پیکجنگ کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک (پولی ایتھیلائن ٹریفتھالیٹ، پی ای ٹی) کو ایل-ڈی او پی اے میں بدل دیا جاتا جس کو پارکنسنز کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

پارکنسنز کی ادویات بنانے کے لیے روایتی طریقے فاسل فیول پر انحصار کرتی ہے۔ لہٰذا پلاسٹک کے دوبارہ استعمال کو زیادہ پائیدار سمجھا جاتا ہے۔

Load Next Story