یورپین پارلیمنٹ میں طالبان مخالفین کا تاریخی اجلاس، افغان رجیم پر کڑی تنقید

طالبان نے دوحہ مذاکرات کے وعدوں کو نظر انداز کرکے افغانستان کو دہشتگردوں کا گڑھ بنادیا ہے، مقررین

افغان طالبان  کے سیاسی اور عسکری مخالفین کا یورپین پارلیمینٹ میں دو روزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں افغان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سابق افغان پارلیمانی رکن فوزیہ کوفی نے یورپین پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ افغان طالبان نے دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے افغانستان کو پرتشدد اورانتہاپسند گروہوں کا محفوظ گڑھ بنا دیا ہے۔

 فوزیہ کوفی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے خواتین کو منظم انداز میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی زندگی سے خارج کرکے صنفی امتیاز کو ایک مستقل نظام میں بدل دیا ہے۔ طالبان رجیم میں انکے انتہا پسند نظریات سے اختلاف رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی، صرف انکے حامی محفوظ ہیں۔

 معروف محقق اور افغان پبلک پالیسی کے ماہر زلمئی ناشط نے افغان رجیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان کا بحران محض انسانی مسئلہ نہیں رہا، یہ یورپ کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے، افغان رجیم کے تسلسل سے انتہا پسند نیٹ ورکس مضبوط ہوں گے اور خطے میں تنازعات شدت اختیار کریں گے۔

سابق افغان کمشنر برائے انتظامی اصلاحات عالیہ یلماز نے یورپین پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ افغان خواتین کے حقوق کی حفاظت صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ علاقائی امن اور مستقبل کے استحکام کیلئے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی شدت پسند پالیسیوں نے افغانستان کو عالمی تنہائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جسکا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے، طالبان رجیم کی ناکام پالیسیوں نے دہشتگردی، منشیات کی معیشت اور سماجی عدم استحکام کو فروغ دے کر افغانستان کو ایک ناکام ریاست بنا دیا ہے۔

Load Next Story