بلوچستان میں تباہی کا بڑا منصوبہ ناکام، خاتون خودکش بمبار گرفتار
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی،کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی خاتون خود کش بمبار کو گرفتار کرلیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری پر سیکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی سے کئی معصوم جانیں بچائی گئیں۔
کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگرد ایک معصوم لڑکی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کر رہے تھے اور “لائبہ” کا واقعہ سب کے سامنے ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب صوبے کے عوام دہشتگردی کو قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ ایک غیرت مند قوم ہے اور دہشتگرد تنظیمیں بلوچ خواتین کا استحصال کر رہی ہیں جبکہ بلوچیت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے الزام عائد کیا کہ بشیر زیب گروپ اور بلوچ لبریشن آرمی نے خواتین کے احترام کو نقصان پہنچایا اور بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کافی عرصے بعد سیکیورٹی فورسز کو ہیومن انٹیلی جنس حاصل ہونا شروع ہوئی ہے اور عوام خود حساس معلومات حکومت کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین سے متعلق معاملات صرف لیڈیز پولیس کے ذریعے نمٹائے جائیں گے اور خواتین کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خضدار کے علاقہ زہری کی رہائشی لائبہ کو خودکش حملہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا جس کو ہیومن انٹیلیجنس کی بنیاد پر بلوچستان کی عوام کے تعاون سے گرفتار کیا گیا ہے۔ https://t.co/cN8zWN618m
افغان مہاجرین کے حوالے سے سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں واپس بھیجنا ریاست کا فیصلہ ہے اور ان کی واپسی باعزت طریقے سے یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کے لیے ایف سی کی مزید تین بٹالین طلب کی گئی ہیں، جبکہ افغانستان کو دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث عناصر افغانستان میں موجود ہیں اور ایک ہزار سے زائد دہشتگردوں کو تربیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق نظام چلایا جائے گا اور مذاکرات صرف انہی عناصر سے ممکن ہیں جو بات چیت کے لیے تیار ہوں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نوجوانوں کو دہشتگردی سے بچانا حکومت کی ترجیح ہے، جبکہ صوبے میں میرٹ پر بھرتیاں جاری ہیں اور 12 ہزار سے زائد اساتذہ کو بھرتی کیا جا چکا ہے۔