نیب کا 3 برسوں میں تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کا دعویٰ، 115 کھرب روپے سے زائد رقم واپس لانے کا انکشاف

تفصیلات سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کی گئی نیب کی کارکردگی اور اصلاحات سے متعلق رپورٹ میں سامنے آئیں

قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ تین سالوں کے دوران اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کا دعویٰ کرتے ہوئے 115 کھرب روپے سے زائد رقم واپس لانے کا انکشاف کیا ہے۔

یہ تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کی گئی نیب کی کارکردگی اور اصلاحات سے متعلق رپورٹ میں سامنے آئیں۔

رپورٹ کے مطابق ادارے پر خرچ ہونے والے ہر ایک روپے کے بدلے 629 روپے قومی خزانے میں واپس آئے۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ نیب نے 48 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروا کر تقریباً 110 کھرب روپے کی قومی بچت ممکن بنائی۔

مزید برآں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں متاثر ہونے والے 1 لاکھ 29 ہزار افراد کے 213 ارب روپے واپس دلائے گئے، جبکہ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیوں میں 85 ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کیے گئے۔

رپورٹ میں احتساب کے نظام میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے مطابق 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز پر کارروائی نہ ہونا ایک بڑی مشکل ہے۔

نیب نے تجویز دی ہے کہ کرپشن کیسز میں ملزم کے ذاتی فائدے کو ثابت کرنے کی شرط ختم کی جائے اور صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر سزا دی جائے۔

دستاویزات کے مطابق 100 سے کم متاثرین والے فراڈ کیسز اب نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، جبکہ 100 متاثرین کے بیانات ریکارڈ کرنے کی شرط مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ احتساب عدالتوں میں ایک ریفرنس کے فیصلے میں اوسطاً 6 سال لگتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 23 میں سے صرف 16 عدالتیں فعال ہیں۔

نیب نے کفایت شعاری مہم کے تحت 238 آسامیاں ختم کر کے 66 کروڑ روپے کا بجٹ بھی واپس کیا۔

سال 2025 میں نیب کے 58 فیصد کیسز میں سزائیں ہوئیں جبکہ 42 فیصد ملزمان بری ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قائم خصوصی سیل کو مزید فعال بنانے اور کرپشن کی تحقیقات میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

Load Next Story