چہرے کی جھریوں سے بچاؤ ممکن، ماہرین نے مؤثر احتیاطی تدابیر بتا دیں

جھریاں بڑھتی عمر کا حصہ ہیں، تاہم مناسب دیکھ بھال سے ان کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے

روزانہ مناسب نیند اور کم از کم ڈیڑھ لیٹر پانی پینا چہرے کی جھریوں سے بچنے کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل عوامل ہیں، فوٹو: انٹرنیٹ

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں مختلف تبدیلیاں آنا ایک فطری عمل ہے۔ اس دوران صحت کے ساتھ ساتھ ظاہری شکل و صورت میں بھی فرق محسوس ہونے لگتا ہے، جن میں چہرے پر جھریاں نمایاں علامت سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جھریاں بڑھتی عمر کا حصہ ہیں، تاہم مناسب دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ان کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جلد کی ساخت بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خواتین کی جلد نسبتاً باریک اور نازک ہوتی ہے، اس لیے ان کے چہروں پر جھریاں عموماً جلد نمودار ہو جاتی ہیں، جبکہ مردوں کی جلد نسبتاً موٹی ہونے کے باعث ان میں یہ عمل قدرے دیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونز میں تبدیلیاں اور بچوں کی پیدائش کے دوران جسمانی کمزوری بھی خواتین میں جھریوں کے جلد ظاہر ہونے کی ایک وجہ بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جلد کی بہتر حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو دھوپ میں نکلتے وقت سن بلاک استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔ اسی طرح جلد سے متعلق کسی بھی مسئلے کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت علاج کرانا اور متوازن غذا کا استعمال بھی جلد کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اگر چہرے پر جھریاں ظاہر ہونے لگیں تو ماہرین ایسے کاسمیٹکس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں جن میں وٹامن سی کی مقدار زیادہ ہو، کیونکہ یہ جلد کی تازگی اور لچک کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے موئسچرائزر استعمال کرنا بھی مفید سمجھا جاتا ہے جن میں سیرامائڈ کی مقدار زیادہ ہو، کیونکہ یہ جلد کو نمی فراہم کر کے اسے نرم اور صحت مند رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جلد کی دیکھ بھال میں صبر اور تسلسل ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی پراڈکٹ یا طریقۂ علاج کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے۔ بہتر نتائج کے لیے ان عادات کو مستقل معمول کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چہرے کی جلد پر گھریلو ٹوٹکوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ کسی بھی نئی چیز کو براہِ راست چہرے پر لگانے کے بجائے پہلے ہاتھ یا بازو پر آزما لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ جلد کو کسی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

Load Next Story