ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
توقع اور خدشات کے عین مطابق ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کی شدت میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ہر دو جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں اور اپنے اپنے دعوؤں کے مطابق اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکا خلیجی ممالک میں قائم اپنے فوجی اڈوں سے ایران پر حملے کر رہا ہے تو جواب میں ایران برادر دوست مسلم ملکوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، بعینہ اسرائیل پر براہ راست میزائل حملے کر رہا ہے جب کہ اسرائیل ایران کے پہلو بہ پہلو لبنان پر بھی حملے کرکے جنگ کے دائرے کو مزید بڑھانے کی راہ پر گامزن ہے۔
امریکا و اسرائیل کے تازہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، ان کا بیٹا اور پاسداران انقلاب کی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے ہیں، جو ایران کا یقینا ایک بڑا نقصان ہے۔
علی لاریجانی نے شہادت سے ایک دو روز قبل دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کے نام اپنے چھ نکاتی پیغام میں کہا تھا کہ ایران کو ایک فریب پر مبنی امریکی، صیہونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جو مذاکرات کے دوران ایران کو کمزور کرنے کے مقصد سے کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ محض سیاسی بیانات کے سوا کوئی اسلامی ریاست ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی ۔
علی لاریجانی نے بجا طور پر کہا کہ اگر امت مسلمہ حقیقی اتحاد قائم کر لے تو وہ تمام اسلامی ممالک کے لیے سلامتی، ترقی، خوش حالی اور خودمختاری کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ دنیا کے 56 اسلامی ممالک اور تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان کوئی معمولی قوت نہیں۔ مسلم دنیا کے پاس قدرتی اور مادی وسائل کی بھی فراوانی ہے بالخصوص تیل کی نایاب دولت کا بیشتر حصہ خلیج کے مسلمان ملکوں کے پاس ہے ان کی افرادی قوت بھی گوناگوں صلاحیتوں سے مالا مال اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی کماحقہ آگاہ ہے۔
سب سے بڑھ کر مسلمانوں کے پاس جذبہ ایمان ہے جو غیر مسلموں کے پاس نہیں اسی دولت ایمانی کی بنیاد پر مسلمان باطل قوتوں سے ٹکرا جاتے ہیں بقول علامہ اقبال:
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
حریت پسند کشمیریوں اور نہتے فلسطینیوں کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے بھارت اور اسرائیل جیسے جابر و ظالم حکمرانوں کے خلاف آج بھی سینہ سپر ہیں اور اپنے لہو سے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ممالک کے نفاق کی وجہ سے آج مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں معصوم فلسطینیوں، نہتے کشمیریوں اور بے بس لبنانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
مسلمان ملکوں کی نمایندہ او آئی سی دم سادھے اور خاموشی کی چادر اوڑھے نہ جانے کہاں محو استراحت ہے۔
ایران پر تین ہفتوں سے امریکی و صیہونی یلغار جاری ہے لیکن او آئی سی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اگست 2006 میں بیروت میں اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں لبنان کے اس وقت کے وزیر اعظم فواد ستیورہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے مسلم امہ سے اپیل کی تھی کہ ان کے ملک کو اسرائیل کی بربریت سے بچایا جائے۔
اسرائیل لبنان کے عوام کا قتل عام کر رہا ہے، ہم اپنے موقف کی بنیاد بیوہ عورتوں، شہید بچوں، زخمیوں اور بے گھر افراد کے دکھوں پر رکھ رہے ہیں۔
انھوں نے بھی علی لاریجانی کی طرح عرب ملکوں سے اپیل کی تھی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، یہ آپ کی ذمے داری ہے۔
نومبر 2000 میں سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز نے بڑے سخت لب و لہجے میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ امریکا اور یورپ کب تک اسرائیل کی مدد و تعاون جاری رکھیں گے۔
انھوں نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ مظالم سے باز رکھنے کے لیے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ وہ عربوں میں گھرا ہوا ہے اور اسرائیل نے جس رویے کا مظاہرہ کیا ہے اس پر کوئی اعتبار و اعتماد نہیں کرے گا۔
بجا کہ اسرائیل عربوں میں گھرا ہوا ہے لیکن انھی عرب ملکوں نے اسرائیل کے سرپرست اعلیٰ امریکا کو اپنے ملکوں میں فوجی اڈے فراہم کرکے اسرائیل کو طاقت ور اور خود کو کمزور کر لیا ہے نتیجتاً امریکا انھی اڈوں کو استعمال کرکے ایران پر بمباری کر رہا ہے جواب میں ایران خلیجی ملکوں پر حملے کر رہا ہے جس سے مسلم امہ کا اتحاد مزید کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔
مگر مسلم حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور متحد و منظم ہو کر امریکا و اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے نہ ہوئے تو اس کی سزا ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گی بقول علامہ اقبال:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات