پنجاب میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ
کتوں کےکاٹنے سے متعلق حکمہ صحت پنجاب کی رپورٹ میں خوفناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں ویکسین موجود ہے لیکن "ریبیز امیونوگلوبلین" جیسے اہم انجیکشنز کی کمی ہے۔
سال 2024 سے اکتوبر 2025 تک 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ ڈیرہ غازی خان 25,863 کیسز کے ساتھ سر فہرست رہا۔ ملتان 25,113،رحیم یار خان 26,488 اور راولپنڈی میں 24,404 کیسز رپورٹ ہوئے۔
راجن پور 22,767، میاںوالی 17,554 اور قصور میں 16,755 کتے کے کاٹنے سے متاثر ہوئے۔
اس حوالے سے حکومتی اجلاس میں صرف ناقابلِ علاج اورزخمی کتوں کو رحم دلی کے ساتھ مارنے کی اجازت دی گئی۔ آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیےنس بندی کاطریقہ اپنایا جائے گا۔
اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی کے تحت کتوں کو مارنے پر پابندی عائد ہے لہٰذا نس بندی کے ذریعے کتوں کی آبادی کو کنٹرول کیا جائے گا۔