’ایران کیساتھ کئی نکات طے پاگئے‘؛ ٹرمپ نے پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کیلیے مؤخرکر دیئے

ایران کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے لیے دی گئی مہلت کے باوجود امریکا نے حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کیلیے موخر کردیئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے لیے دی گئی مہلت کے باوجود امریکا نے پانچ روز تک کسی بھی فوجی کارروائی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ صورتحال کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی حالیہ بات چیت میں کئی اہم نکات ( بقول سی این این تقریباً 15 نکات) پر اتفاق پایا گیا ہے اور دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے اور یہ بات چیت مثبت رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آج ٹیلی فون پر مزید بات چیت کا امکان ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے اور اسی مقصد کے تحت مذاکرات جاری ہیں۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بھی رابطہ ہے اور دونوں جانب سے معاہدے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پہلے ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا اور امریکا نے خود پہل نہیں کی۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ایران اور پورے خطے کے لیے ایک مثبت آغاز ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل بھی ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر مطمئن ہوسکتا ہے اور میں خود بھی ذاتی طور پر حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام سے اس معاملے پر بات کر چکا ہوں۔

البتہ امریکی صدر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو افزودہ یورینیم کے معاملے کو سنبھالنا آسان ہو جائے گا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ اگر امریکا نے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار تیار کر سکتا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی قیادت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نئے سپریم لیڈر کی جانب سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا اور وہ اس بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی قسم کی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مختلف ممالک پس پردہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ایران اور لبنان میں جاری حملوں کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت سات فیصد سے زائد کم ہو کر 99 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی جو 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

 

Load Next Story