صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی میڈیا ٹاک کو حقائق سے عاری قرار دے دیا

کراچی کے مسائل کا رونا رونے والے بتائیں کہ انہوں نے اپنے دور میں شہر کے لیے کیا کی،سید ذوالفقار علی شاہ

صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی میڈیا ٹاک کو حقائق سے عاری اور محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سندھ کی ترقی دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کا رونا رونے والے بتائیں کہ انہوں نے اپنے دور میں شہر کے لیے کیا کیا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کی ثقافت اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے، اپوزیشن لیڈر کو مشورہ ہے کہ تنقید کے بجائے تعمیری سیاست پر توجہ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں جن کا اعتراف عالمی ادارے بھی کر رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی باتیں صرف ٹی وی اسکرین کی حد تک ہیں زمین پر ان کا کوئی کام نہیں، کراچی کے عوام جانتے ہیں کہ کون ان کی خدمت کر رہا ہے اور کون صرف نعرے لگا رہا ہے۔

سندھ کی ثقافت اور شناخت پر حملے کرنے والوں کو عوام مسترد کر چکے ہیں، اپوزیشن لیڈر منفی سیاست کے ذریعے اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی قیادت میں سندھ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔

اپوزیشن کا کام صرف روڑے اٹکانا ہے ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے، اپوزیشن لیڈر کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کسی بھی حلقے میں ترقیاتی کاموں پر ہم سے مناظرہ کر لیں، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا شور شرابہ ان کی مایوسی کی علامت ہے۔

اس کے علاوہ ترجمان سندھ حکومت گنہور خان اسران نے علی خورشیدی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی کے عوام جانتے ہیں کہ کون نااہل اور ناکام ہے۔خیرات کے مینڈیٹ  پر سیاست کرنے والوں کو عوام اچھے سے جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ کون لوگ تھے جنہوں نے تین دہائیوں تک  کراچی کو مال  غنیمت سمجھ کر برباد کیا۔ایم کیو ایم کا کام ہی شور مچانا  اور گل غپاڑہ رہ  گیا ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے بھر میں جس طرح  کام کر رہی ہے وہ ایم کیو ایم کو ہضم نہیں ہو رہا۔سیلاب متاثرین کو  21 لاکھ  مضبوط اور پکے گھر تاریخ میں کبھی نہیں بنے۔کراچی میں  متعدد میگا پروجیکٹس جاری  ہیں، اربوں روپے  کے منصوبے کراچی کے عوام کے لئے  جاری ہیں۔دودھ کی نہریں نہیں بن رہیں لیکن وہ حالات نہیں رہے جن پر ایم کیو ایم سیاست کیا کرتی تھی۔

Load Next Story