پیٹرول و گیس کی شدید قلّت؛ فلپائن کی حکومت نے بڑا اعلان کردیا
فلپائن میں انرجی ایمرجنسی نافذ کردی گئی
آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک میں تیل تنصیبات پر حملوں کے باعث پیڑول و گیس کی قلت سے نمٹنے کے لیے فلپائن نے فیصلہ کن اقدام اُٹھالیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ملک میں قومی توانائی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی اور توانائی کے نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
فلپائنی صدر کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران سے جڑی صورتحال، عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں فلپائن جیسے درآمدی ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انرجی ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کے بعد توانائی کے شعبے میں ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔ جن میں ایندھن کے ذخائر میں اضافے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرنے کو فروغ دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں غیر ضروری توانائی کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بھی پالیسی اقدامات زیر غور ہیں تاکہ ایندھن ذخائر میں کمی نہ ہو اور تیل و گیس کا استعمال صرف نہایت ضروری کاموں کے لیے مخصوص کیے جائیں۔
دوسری جانب توانائی بحران کے باعث ملک میں مہنگائی بڑھنے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے۔ تاہم حکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فوری طور پر ایندھن کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گذرگاہ کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو توانائی کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔