برسات کا موسم اور بڑھتی بیماریاں: کن خطرات سے ہوشیار رہیں؟
بارشوں کا خوشگوار موسم اپنے ساتھ مختلف بیماریاں کا خدشہ بھی ساتھ لاتا ہے۔ برسات کے دوران فضا میں نمی بڑھنے سے جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس کے پھیلنے کے لیے سازگار ماحول بن جاتا ہے، جس کے باعث ہر عمر کے افراد مختلف انفیکشنز کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔
ڈینگی کا خطرہ
ماہرین کے مطابق بارشوں کے موسم میں مچھروں کی افزائش میں تیزی آتی ہے، جس کے باعث ڈینگی جیسی خطرناک بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماری مادہ ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے، جو عموماً دن کے اوقات میں متحرک ہوتا ہے۔ ڈینگی کے مریضوں میں تیز بخار، جسم میں درد اور پلیٹ لیٹس کی کمی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، جو بعض اوقات سنگین صورت اختیار کر سکتی ہیں۔
چکن گونیا
چکن گونیا بھی برسات کے موسم میں پھیلنے والی ایک متعدی بیماری ہے، جس کا باعث بھی مچھر بنتے ہیں۔ یہ مچھر عموماً کولرز، گملوں اور پانی جمع ہونے والی جگہوں پر افزائش پاتے ہیں۔ اس بیماری میں شدید جوڑوں کا درد، بخار، تھکن اور سردی لگنے جیسی علامات سامنے آتی ہیں، جو مریض کو کافی متاثر کر سکتی ہیں۔
ملیریا
بارشوں کے ساتھ ملیریا کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کھڑا رہتا ہے یا سیلابی صورتحال پیدا ہو جائے۔ ملیریا کی علامات میں تیز بخار، کپکپی، پسینہ آنا اور خون کی کمی شامل ہیں، جو فوری توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں۔
ٹائیفائیڈ
دوسری جانب آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک کے استعمال سے ٹائیفائیڈ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس بیماری میں مسلسل بخار، کمزوری، سر درد اور بھوک میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، جو مریض کی عمومی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
انفلوئنزا
مزید برآں، موسم کی اچانک تبدیلی اور درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ انفلوئنزا جیسے وائرل انفیکشن کو جنم دے سکتا ہے، جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، ناک بند ہونا اور جسمانی درد جیسی علامات شامل ہوتی ہیں۔
احتیاط
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ برسات کے موسم میں صفائی کا خاص خیال رکھنے، پانی جمع نہ ہونے دینے اور صاف پانی و خوراک کے استعمال سے ان بیماریوں سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔