اسرائیل میں پاور پلانٹ پر حملے کی ویڈیو وائرل، حقیقت کیا ہے؟

وائرل ویڈیو میں ایک پاور پلانٹ کو شعلوں میں گھرا دکھایا گیا ہے، جس کے مطابق دعویٰ ہے کہ یہ اسرائیل کے شہر حیفا کا ہے

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ایک پاور پلانٹ کو شعلوں میں گھرا دکھایا گیا ہے، اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اسرائیل کے شہر حیفا میں بازن گروپ کے پاور پلانٹ پر ایرانی حملے کی فوٹیج ہے۔

تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو دراصل یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع ہیزیاز سینٹرل جنریٹنگ اسٹیشن پر ہونے والے حملے کی ہے، جو مئی 2025 میں پیش آیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی حملوں کے دوران یمن کے توانائی کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ ویڈیو پہلے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جاچکی تھی، جہاں اسے درست تناظر میں یمن کے پاور پلانٹ پر حملے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے غلط کیپشن کے ساتھ دوبارہ وائرل کردیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں حیفا میں میزائل حملوں کے واقعات ضرور پیش آئے، جن میں عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا، لیکن اس ویڈیو کا ان واقعات سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

مزید یہ کہ ویڈیو میں دکھایا گیا منظر 2024 کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جو یمن کے اسی پاور پلانٹ کی ہیں، نہ کہ حیفا میں موجود بازن گروپ کی تنصیبات کی۔

یہ ویڈیو حیفا، اسرائیل کی نہیں بلکہ یمن کے شہر صنعا میں پاور پلانٹ پر ہونے والے پرانے حملے کی ہے، جسے غلط دعوے کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا جارہا ہے۔

Load Next Story