وزن کم کرنے والی ادویہ کے غیر محتاط استعمال سے سنگین طبی پیچیدگیوں کا خطرہ
ماہرین صحت نے وزن کم کرنے کےلیے استعمال ہونے والی ادویات کے غیر محتاط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسی ادویات کے سستے متبادل مارکیٹ میں آنے کے بعد ان تک رسائی آسان ہوگئی ہے، جس کے باعث ان کے غیر ضروری اور بغیر نگرانی استعمال کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مقامی دوا ساز کمپنیوں نے وزن کم کرنے والی دوا کے جنیرک ورژنز تیار کرکے کم قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیے ہیں۔
یہ ادویات بنیادی طور پر جی ایل پی-1 ہارمون کے ذریعے جسم میں شوگر لیول اور بھوک کو کنٹرول کرتی ہیں، اور اب ان کے سستے متبادل ملک بھر کی فارمیسیز، آن لائن پلیٹ فارمز اور کلینکس پر باآسانی دستیاب ہیں۔
اگرچہ ان ادویات کی منظوری موجود ہے، تاہم انہیں صرف مستند ماہرین جیسے اینڈوکرائنولوجسٹ یا متعلقہ طبی ماہرین کے مشورے سے ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بغیر طبی نگرانی ان ادویات کا استعمال سنگین مضر اثرات اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی نوو نارڈسک کی تیار کردہ دوا اوزیمپک کو 2017 میں ذیابیطس کے علاج کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم بعد ازاں وزن کم کرنے میں اس کی افادیت کے باعث دنیا بھر میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان ادویات کی نگرانی کا فقدان ہے۔ ملک میں اس حوالے سے کوئی مؤثر مانیٹرنگ سسٹم موجود نہیں، جبکہ یہ ادویات آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے باآسانی حاصل کی جاسکتی ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔