ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن،واجبات کی عدم ادائیگی پر میئر کراچی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت

سرکاری وکیل عبدالجلیل زبیدی نے جواب عدالت میں جمع کروا دیا

سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن اور واجبات کی عدم ادائیگی پر میئر کراچی و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی، جہاں سرکاری وکیل عبدالجلیل زبیدی نے جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

سرکاری وکیل کے مطابق میونسپل کمشنر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات کو خط لکھا ہے جبکہ محکمہ خزانہ نے اکتوبر تا دسمبر پینشن واجبات کی ادائیگی کیلئے 20 کروڑ روپے فراہم کیے تھے، مزید واجبات کیلئے تین کروڑ 45 لاکھ روپے درکار ہیں۔

سرکاری وکیل نے تفصیلی جواب جمع کرانے کیلئے مہلت طلب کی جس پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ہے، سرکاری گاڑیوں کا استعمال آدھا کردیا گیا ہے اور دو دن کی چھٹی دی گئی ہے جبکہ میڈیکل اور ترقیاتی منصوبوں کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ کیا سندھ میں بھی مالی بحران ہے، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے درخواست پر تین ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے مئی 2025 میں پنشنری فوائد کی ادائیگی کا حکم دیا تھا اور فنانس ڈپارٹمنٹ کو فنڈز کی کمی پوری کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سیکریٹری بلدیات کو ریٹائرڈ اور آئندہ برس ریٹائر ہونے والے ملازمین کی فہرست میئر کراچی کو فراہم کرنا تھی جبکہ کے ایم سی کو دو برس تک پینشن کی ادائیگی جاری رکھنی تھی۔

وکیل کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود پینشن کی ادائیگی مکمل طور پر رکی ہوئی ہے جس سے ریٹائرڈ ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، لہٰذا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سیکریٹری بلدیات، میئر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی اور دیگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

Load Next Story