پی ایس ایل میں شائقین کی کمی محسوس ہو گی، شاہین شاہ آفریدی
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ گو کہ پی ایس ایل میں شائقین کی کمی محسوس ہو گی لیکن حکومت کے فیصلے کو ہم سب کو مل کر سپورٹ کرنا ہے۔
ایکسپریس ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شاہین آفریدی نے کہا کہ پی ایس ایل 11 کے لیے لاہور قلندرز کی تیاریاں کافی اچھی ہیں، ہم نے تو رمضان میں تربیتی کیمپ لگا لیا تھا، سکندر رضا بھی اس میں شریک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار بھی ہماری ٹیم میں کئی اچھے نوجوان کھلاڑی موجود ہیں، ہم ٹورنامنٹ میں بہترین کھیل پیش کرنے کے لیے پرعزم ہیں، امید ہے کہ ٹیم جلد یکجا ہو کر اچھا پرفارم کرے گی۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ کاغذ پر تو تمام ہی سائیڈز مضبوط نظر آرہی ہیں، نئی ٹیموں نے بھی کافی اچھے کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے، یہ پلیئرز پاکستان ٹیم کے لیے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں ایک ساتھ کھیل چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا اس بار بھی کافی اچھا اسکواڈ بن گیا ہے، ہر سال لاہور قلندرز کی ٹیم بہتری کی جانب گامزن رہتی ہے، کوشش یہی ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو بھی مواقع دیں تاکہ وہ غیرملکی کرکٹرز سے سیکھیں، پھر جب وہ دیگر لیگز اور قومی ٹیم کی جانب سے کھیلیں گے تو بہتری نظر بھی آئے گی۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ مداحوں نے ہمیں اور پاکستانی کرکٹ کو ہمیشہ سپورٹ کیا، میدان میں ان کی موجودگی ہمیں مزید بہتر کھیلنے کی تحریک دلاتی ہے، اس بار میچز کے دوران شائقین کی کمی محسوس ہوگی لیکن جو حکومت کا فیصلہ ہے ہم سب اسے سپورٹ کریں گے، کوشش ہوگی کہ پی ایس ایل میں اچھی کرکٹ کھیلیں تاکہ لوگ ٹی وی پر میچز دیکھ کر لطف اندوز ہوں اور ٹیموں کو سپورٹ کریں۔
فخر زمان لاہور قلندرز کیلیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں
شاہین آفریدی نے کہا کہ فخر زمان کا لاہور قلندرز کے ساتھ یہ دسواں سال ہوگا، شاید ہی کوئی کھلاڑی کسی ٹیم کیلیے اتنے عرصے تک کھیلا ہو، وہ لاہور قلندرز کیلیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں اور آگے بھی ہوں گے، ان کی کارکردگی کا سب کو علم ہے، وہ جب بھی اچھی فارم میں ہوں تو کسی بھی حریف کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
ایک سوال پر شاہین نے کہا کہ فخر زمان کو کوئی خطرناک انجری نہیں تھی، ٹیم ون ڈے کرکٹ کافی عرصے بعد کھیل رہی تھی، فخر خود جانتے ہیں کہ ان کا جسم کتنا ساتھ دے سکتا ہے، میڈیکل ٹیم نے انہیں آرام کا مشورہ دیا تھا۔
اپنی زندگی میں سکندر رضا جیسا کمیٹڈ کرکٹر کوئی اور نہیں دیکھا
شاہین آفریدی نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں سکندر رضا جیسا کمیٹڈ کرکٹر کوئی اور نہیں دیکھا، گزشتہ سال کی مثال دیکھ لیں وہ زمبابوے کا ٹیسٹ میچ کھیل کر ایک دن بعد فائنل کیلیے پہنچ گئے، کرکٹ اور ٹیم کیلیے ان کی کمٹمنٹ مثالی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دسویں سیزن سے قبل بھی سکندر نے کیمپ میں شرکت کی اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئے تھے، اب وہ ورلڈکپ کے بعد کیمپ کیلیے آئے، پلیئرز سے ملاقات کی، ان جیسے پلیئر کا ساتھ ہماری ٹیم کیلیے خوش آئند ہے۔
حارث رؤف فائٹر کرکٹر ہیں
شاہین آفریدی نے کہا کہ حارث رؤف کی پیس بولنگ ہمیشہ ٹیم کیلیے اہم رہی ہے، وہ ہمارے لیے وکٹیں لینے والے بولر ہیں، جب بھی کھیلیں ان کی یہی کوشش ہوتی کہ نہ صرف بولنگ بلکہ فیلڈنگ سمیت ہر شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں، وہ ایک فائٹر ہیں اور ٹیم میں ایسے کرکٹرز کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
ٹیم کمبی نیشن شناکا کے جانے سے بالکل بھی متاثر نہیں ہوا
شاہین آفریدی نے کہا کہ ڈاسن شناکا کے پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل میں جانے سے ٹیم کمبی نیشن بالکل بھی متاثر نہیں ہوا، یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا، ہماری ٹیم میں ہر شعبے کے پلیئرز موجود ہیں، ہم نے بہترین کرکٹرز کا ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ پلیئرز آکشن کا فیصلہ ٹھیک تھا، ہماری کوشش یہی رہی کہ اپنی اصل ٹیم کو برقرار رکھیں، ہماری پلیئنگ الیون میں گزشتہ سال جو 7 پلیئرز تھے وہ اب بھی موجود ہیں، ہم یہی چاہتے ہیں کہ پلیئرز ہمارے پاس ایک دو سال کیلیے نہ آئیں بلکہ ہم انہیں متواتر مواقع فراہم کریں۔
شاہین نے کہا کہ جب بھی کوئی نیا پلیئر آئے تو جلد ٹیم میں سیٹ نہیں ہو سکتا، اسی لیے ہم یہی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں مکمل چانس دیں، اس آکشن میں ہم نے ریٹین نہ ہو پانے والے فخر زمان اور حارث رؤف کو واپس لینے کی کوشش کی جس میں کامیاب رہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد نعیم، محمد فاروق، عبید شاہ اور معاذ خان ایسے نوجوان باصلاحیت کرکٹرز ہیں جو پی ایس ایل میں اچھا پرفارم کرنے کے ساتھ مستقبل میں پاکستان ٹیم کے بھی کام آئیں گے۔
لاہور قلندرز کی ٹیم میری فیملی ہے
شاہین آفریدی نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے گزشتہ سال کافی اچھا فائنل ہوا تھا، کوشال اور سکندر رضا نے زبردست اننگز کھیلیں تھیں، وہ میچ ہمیشہ ہماری یادوں کا حصہ رہے گا، ہم اب نئے سیزن میں نئے چیلنجز کیلیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کے ساتھ یہ میرا نواں سال ہے اور یہ ٹیم میری فیملی ہے، میں کبھی نہیں سوچتا کہ کتنی وکٹیں لینی ہیں بلکہ بہتر سے بہتر کارکردگی کی ہی کوشش کرتا ہوں، جب بھی مجھے ٹیم کو فتح دلانے کا موقع ملا تو پوری کوشش ہو گی کہ ایسا کروں۔
شاہین کا کہنا تھا کہ آپ کبھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہو سکتے اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ مزید سیکھیں، نیٹ پریکٹس کے دوران محنت کر کے کھیل میں مزید بہتری لائیں،میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ سوفیصد پرفارم کرنے کی کوشش کروں۔
ورلڈکپ میں کچھ میچز فتح کے کافی قریب پہنچ کر ہار گئے
شاہین آفریدی نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ہم انگلینڈ سمیت کچھ میچز فتح کے کافی قریب پہنچ کر ہار گئے، گوکہ شکستیں تو صرف 2 ہوئیں لیکن ورلڈکپ میں جس طرح یکطرفہ فتوحات حاصل کرنا چاہیے تھیں ہم ویسا نہیں کر سکے، اب آئندہ پاکستان کے لیے آگے جتنی کرکٹ آرہی ہے اس میں بہتر پرفارم کر سکتے ہیں، تمام کھلاڑی اس کیلیے کوشش بھی کر رہے ہیں۔
بطور کپتان سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش ہوتی ہے
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کپتانی کے فرق پر شاہین آفریدی نے کہا کہ مختصر طرز میں کپتان کو فیصلے جلدی کرنا پڑتے ہیں، ون ڈے میں بھی میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ پلیئرز کو مواقع دوں اور سب کو ساتھ لے کر چلوں، سب مل کر پاکستان کو میچز جتوائیں، آسٹریلیا وغیرہ سے آنے والے ون ڈے میچز میں اچھا کھیل پیش کریں گے۔
بطور کپتان کھلاڑیوں پر غصے کا اظہار کرنا پسند نہیں
شاہین آفریدی نے کہا مجھے کبھی یہ پسند نہیں کہ بطور کپتان اپنے کھلاڑیوں پر غصے کا اظہار کروں، ٹی وی پر فیملیز بھی میچ دیکھ رہی ہوتی ہے ایسا رویہ کسی کیلیے بھی اچھا نہیں ہوتا، ہمیں اس کھیل کی بھی عزت کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ ایک گیم ہے اور اسے یہی سمجھ کر کھیلنا چاہیے، میں بھی فیلڈ میں کھیل سے لطف اندوز ہوتا ہوں، البتہ بولنگ میں جارحیت دکھانا کبھی نہیں چھوڑتا، اس سے مجھے مزید اچھا کھیلنے کی تحریک ملتی ہے۔
شاہین آفریدی نے یارکرز میں کمی کی تنقید کو مسترد کردیا، کہا کہ کرکٹ میں نے اپنے شوق کیلیے شروع کی تھی، یہ مجھے بہت پسند ہے، میں اپنے ذہن اور دل کے لحاظ سے کھیلتا ہوں، جو بھی پاکستان کیلیے بہتر ہو گا میں وہی کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم سمیت جس کی بھی ٹیم سے میچ ہوا کوشش ہو گی کہ اچھا کھیل پیش کریں، میری ذمہ داری آغاز میں ٹیم کو وکٹیں دلانا ہی ہے، اب بھی یہی کروں گا، جو بھی سامنے آیا اسے گراؤنڈ میں دیکھ لیں گے۔