بلوچستان حکومت کا الیکشن کمیشن کو خط، این اے 256 خضدار میں ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست

خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق خضدار اور گردونواح میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک حد تک خراب ہے، بلوچستان حکومت

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

حکومتِ بلوچستان نے حلقہ این اے 256 خضدار میں ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا، خط میں حلقہ این اے-256 خضدار میں 5 اپریل 2026ء کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث موٴخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق خضدار اور گردونواح میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک حد تک خراب ہے، مختلف علاقوں زہری، مولہ، وڈھ، نال اور خضدار میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور عسکریت پسندوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق قبائلی کشیدگی اور سیاسی تناوٴ میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ووٹرز، پولنگ عملے، امیدواروں اور انتخابی سامان کی حفاظت یقینی بنانا انتہائی مشکل ہے، قلات رینج کے ڈی آئی جی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھی اس موٴقف کی توثیق کرتے ہوئے سیکیورٹی وسائل کی کمی اور حساس پولنگ اسٹیشنز کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی سفارش کی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 10 مارچ 2026ء کو ڈپٹی کمشنر خضدار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں ضمنی انتخاب موٴخر کرنے کی سفارش کی گئی، بارودی مواد (آئی ای ڈیز) کے استعمال اور اہم شاہراہوں پر حملوں کا بھی خطرہ ہے، جس سے علاقے میں عدم تحفظ کی فضا مزید بڑھ سکتی ہے، موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد نہ صرف عوام کی جان و مال کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے بلکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

خط میں حکومتِ بلوچستان نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری غور کرتے ہوئے ضمنی انتخاب کو موٴخر کرنے کا فیصلہ کرے۔

بلوچستان حکومت کی درخواست بدترین بددیانتی ہے، جے یو آئی

دوسری جانب جے یو آئی نے اس درخواست پر کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کی درخواست بدترین بددیانتی ہے، چند روز قبل قلات میں اس سے بدترین حالات اور رمضان میں انتخابات بھی کرائے گئے اور دھاندلی بھی، حکومت کو جہاں شکست کا خوف ہو وہاں سیکیورٹی کا بہانہ بنالیتی ہے، عوام کی فکر نہیں، کنفرم شکست کا خوف ہے۔

ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ حکمران ہر انتخاب کو مشتبہ بناکر اس نظام سے عوام کا اعتماد ختم کررہے ہیں، جے یو آئی بلوچستان حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے، سیکیورٹی مسائل ہیں تو یہ آپ کی ناکام حکمرانی کا ثمر ہے، عوام کا تحفظ ممکن نہیں تو حکومت چھوڑ دیں، دھاندلی کی پیداوار حکمران جمہوری نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

Load Next Story