انرجی بحران اور اسمارٹ لاک ڈاؤن

انرجی بحران ایک سنجیدہ حقیقت ہے اور اس کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہوسکتے ہیں

وقار احمد شیخ

پاکستان ایک بار پھر توانائی کے بحران کی لپیٹ میں ہے، اور اس بار مسئلہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ یا گیس کی قلت تک محدود نہیں بلکہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور عالمی حالات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث، پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کے لیے ایندھن کے ذخائر کو برقرار رکھنا اور اخراجات کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

اسی تناظر میں سندھ حکومت کی جانب سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کا مقصد کورونا طرز کے لاک ڈاؤن سے مختلف ہے۔ اس بار ہدف انسانی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے بجائے ایندھن کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

حکومتی موقف کے مطابق تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز، دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی اور ٹریفک میں کمی جیسے اقدامات زیر غور ہیں تاکہ پٹرول کی کھپت کم کی جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسپتال، پولیس اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولیات متاثر نہیں ہوں گی۔

تاہم اس تجویز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر لاک ڈاؤن سے متعلق افواہوں نے عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ لوگ ابھی سے اس امکان پر فکر مند ہیں کہ کہیں روزگار، کاروبار اور روزمرہ زندگی ایک بار پھر متاثر نہ ہو جائے۔ کورونا دور کے تلخ تجربات ابھی زیادہ پرانے نہیں ہوئے، اسی لیے ’’لاک ڈاؤن‘‘ کا لفظ ہی شہریوں کے لیے اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسمارٹ لاک ڈاؤن واقعی انرجی بحران کا مؤثر حل ہوسکتا ہے؟ بظاہر یہ ایک عارضی اور محدود نوعیت کا اقدام لگتا ہے، جس سے ایندھن کی کھپت میں کچھ حد تک کمی ممکن ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں ٹریفک کم ہونے سے پٹرول کی بچت ہو سکتی ہے، جبکہ آن لائن کام کے رجحان سے دفتری اخراجات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ کچھ سنجیدہ خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ دیہاڑی دار طبقے اور چھوٹے کاروباری افراد کا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگر نقل و حرکت محدود ہوتی ہے تو سب سے پہلے یہی طبقہ متاثر ہوگا۔ اسی تناظر میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس اقدام پر تنقید کی جارہی ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اس کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔

ایک اور پہلو اعتماد کا ہے۔ جب ایک طرف عوام سے کفایت شعاری کی توقع کی جائے اور دوسری طرف سرکاری اخراجات یا حکومتی طرزِ زندگی میں نمایاں کمی نظر نہ آئے تو عوامی ردعمل فطری طور پر منفی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اگر ہم اس صورتحال کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن ایک وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے، مگر یہ بنیادی مسئلے کا حل نہیں۔ اصل مسئلہ توانائی کے متبادل ذرائع، پالیسی تسلسل اور مؤثر منصوبہ بندی کا ہے۔

پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں قابلِ تجدید توانائی، مقامی وسائل کا بہتر استعمال اور توانائی کے ضیاع کو روکنا شامل ہے۔

اس صورتحال میں چند عملی تجاویز بھی سامنے آتی ہیں۔ سب سے پہلے حکومت کو شفاف انداز میں عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو۔ دوسرا، اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے ساتھ کمزور طبقے کے لیے ریلیف پیکج بھی دیا جائے تاکہ ان کا معاشی نقصان کم ہو سکے۔ تیسرا، سرکاری سطح پر کفایت شعاری کی واضح مثال قائم کی جائے تاکہ عوام کو یہ محسوس ہو کہ بوجھ یکطرفہ نہیں ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انرجی بحران ایک سنجیدہ حقیقت ہے اور اس کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہوسکتے ہیں۔ لیکن ایسے فیصلے تب ہی مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان میں توازن، شفافیت اور عوامی مفاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن ایک قدم ہو سکتا ہے، مگر منزل تک پہنچنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ جامع حکمت عملی درکار ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story