فکری غلامی اور جدید آمریت کا نیا روپ
تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو جنگوں کا تصور صرف میدان تک، بارود کی بو اور گھوڑوں کی ٹاپوں تک محدود تھا۔ مگر وقت بدلا اور ایٹمی ہتھیاروں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن آج اکیسویں صدی میں جنگ کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔
اب سرحدوں پر توپوں اور میزائلوں کی گھن گرج سے زیادہ خطرناک وہ ’’ڈیجیٹل بارود‘‘ ہے جو ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز کے ذریعے ہم پر برسایا جا رہا ہے۔ اسے ماہرین نفسیات اور ماہرین ’’ففتھ جنریشن وار‘‘ یا ’’ہائبرڈ وار فیئر‘‘ کا نام دیتے ہیں۔
اس جدید طرزِ جنگ میں دشمن سامنے نہیں آتا، بلکہ وہ آپ کے ذہن میں گھر کرتا ہے، یہاں ان کا مقصد زمین کے کسی ٹکڑے کو فتح کرنا نہیں بلکہ آپ کے ذہن میں جگہ بنانا ہوتا ہے، وہ آپ کے ’’بیانیے‘‘ پر قبضہ کرتا ہے۔
اس جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار ’’جھوٹ‘‘ ہے، جسے اس مہارت کے ساتھ تراشا اور پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سچ سے زیادہ معتبر لگنے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ایک چھوٹی سی ویڈیو یا ایک ادھوری خبر پورے ملک میں ہیجان پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
اس جنگ کا ہدف کسی ملک کی فوج نہیں، بلکہ اس کے عوام ہوتے ہیں، جنہیں ان کے اپنے ہی اداروں کے خلاف اور ایک دوسرے کی مخالفت میں صف آرا کرنا ہے۔
اگر ہم عالمی تناظر میں دیکھیں تو کئی ریاستیں اس خاموش جنگ کا شکار ہوکر اندرونی انتشار کی دلدل میں پھنس چکی ہیں۔ عرب بہار سے لے کر مختلف ممالک کے حوالے سے فیس بک اور ٹویٹر کو انسانی نفسیات سے کھیلنے کے لیے جس طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اب رائے عامہ کی تشکیل کسی بندوق کی نوک سے نہیں بلکہ ایک کلک سے کی جاتی ہے۔
جب کسی معاشرے میں سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہوجائے تو وہاں منطق کی جگہ جذبات اور ردِعمل کی جگہ اشتعال لے لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہائبرڈ وار کا ماسٹر مائنڈ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔
پاکستان جیسے جغرافیائی طور پر اہم ملک کے لیے یہ چیلنج مزید سنگین ہوچکا ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو نہ صرف روایتی سرحدوں پر دشمن کا سامنا کر رہی ہے، بلکہ ڈیجیٹل سرحدوں پر بھی ایک نادیدہ حملے کی زد میں ہے۔ یہاں لسانی، مذہبی اور سیاسی اختلافات کو ہوا دے کر ایک ایسی نفرت پیدا کی جا رہی ہے جسے ختم کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
جب کسی قوم میں بے چینی، مایوسی اور اپنے ہی محافظوں کے خلاف نفرت پیدا کر دی جائے تو وہ قوم بغیر گولی چلے ہی اندرونی طور پر کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ ہائبرڈ وار کا اصل مقصد یہی ہے کہ عوام کا اپنی ریاست اور اداروں سے اعتماد ختم ہو جائے تاکہ ملک کے اندر ہی سے انتشار کی ایسی لہر اٹھے جو سب کچھ بہا لے جائے۔
اس جنگ کا ایک اور خطرناک پہلو معاشی ہیجان پیدا کرنا ہے۔ دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے معاشی حالات کے بارے میں مسلسل منفی بیانیہ تیار کرتی ہیں تاکہ سرمایہ داروں کا اعتماد متزلزل ہو، یہ معاشی و نفسیاتی جنگ کسی بھی ملک کی کمر کو سپاہ کرنے کے لیے ایٹم بم سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
جب عوام کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ان کا ملک ’’دیوالیہ‘‘ ہونے والا ہے تو وہ خود بخود خوف کا شکار ہو کر منفی ردِعمل دینے لگتے ہیں، سرمایہ دار ملک چھوڑنے لگ جاتے ہیں، جو دراصل دشمن کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام شہری انجانے میں اس جنگ کا سپاہی بن جاتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل جو کہ اپنی زندگی کا بیشتر وقت اسکرینز پر گزارتی ہے، اور یوں وہ اس پروپیگنڈے کا سب سے آسان ہدف ہے۔
ایک انتہائی اہم بات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ آج کل ہم جس بارے میں بات کرتے ہیں اس سے متعلق پوسٹیں اور ویڈیوز ہمارے سامنے آتی ہیں، اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ آپ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آپ کی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہیں پھر آپ کو وہ کچھ دکھاتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ آپ کو اس پوزیشن پر لاکھڑا کیا جاتا ہے کہ آپ کو اپنی ہر بات سچی اور سامنے والی کی جھوٹ لگتی ہے۔
یہ فکری تقسیم دراصل اس ہائبرڈ وار کا نقطہ عروج ہے، جہاں ایک ہی گھر میں رہنے والے دو افراد صرف اس لیے دست و گریباں ہو جاتے ہیں، کیوں کہ ان کi موبائل اسکرینیں انہیں دو الگ الگ دنیائیں دکھا رہی ہوتی ہیں۔ جب مکالمہ ختم ہوجائے اور تعصب باقی رہ جائے تو سمجھ لیں کہ دشمن نے اپنا ہدف حاصل کرلیا ہے۔
مشہور مفکر نوم چومسکی کا قول ہے ’’عوام کو اس بات سے بے خبر رکھنا کہ ان پر کیسے قابو پایا جا رہا ہے، جدید آمریت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘‘
اب وقت آگیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ’’ڈیجیٹل شعور‘‘ پیدا کریں۔ ہر وہ خبر جو سنسنی خیز ہو ضروری نہیں کہ وہ سچ بھی ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لائیکس اور شیئرز کی دوڑ میں ہم دشمن کے کسی بڑے کھیل کا مہرہ تو نہیں بن رہے۔ اگر آج ہم نے اپنی سوچ کا دفاع نہیں کیا تو کل ہم اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔
اسمارٹ فون کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی فکری بقا کا مورچہ جان کر استعمال کریں۔ یاد رکھیے، سچ کی تلاش محض ایک عادت نہیں بلکہ اس پرفتن دور میں ایک ’’قومی فریضہ‘‘ ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔