وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد نیتن یاہو جیل میں جائیں گے، امریکی تحقیقاتی رپورٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جب کہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی مواد اور ویڈیو سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شواہد نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور انہیں جیل تک لے جا سکتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ کے تاجروں سے قیمتی تحائف حاصل کیے اور اس کے بدلے انہیں کاروباری فائدے پہنچائے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس تحقیقات کے دوران نیتن یاہو نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر تحائف لینے کا اعتراف کیا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک مبینہ ویڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں نیتن یاہو کو انکوائری افسران کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سکیورٹی اور جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔

Load Next Story