لاہور:اسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے نظام صحت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے
لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں دورانِ آپریشن مریضوں کی ویڈیوز بنانے اور غیر تربیت یافتہ افراد سے حساس طبی عمل کروانے کا انکشاف ہوا ہے۔حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔
لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں دورانِ آپریشن ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ڈاکٹرز کے درمیان مبینہ مقابلہ بازی نے مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
"یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، مریضوں کی پرائیویسی اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے جواب طلب کر لیا، جبکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ادھر شہری جنید ستار بٹ ایڈووکیٹ نے پولیس میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔
لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال کا یہ واقعہ صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جہاں ایک طرف مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے الزامات ہیں، وہیں حکومت کی جانب سے سخت احتساب کا عمل بھی جاری ہے۔