امریکی زمینی فوج آئی تو ‘شارک کی خوراک’ بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی
فوٹو: تسنیم نیوز ایجنسی
ایران نے امریکا کی زمینی فوج کی مداخلت کی صورت میں تباہ کن نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے زمینی حملہ کیا تو ان کے فوجی شارک مچھلی کی خوراک بنے گی۔
ایرنی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان انراحیم ذوالفقاری نے ایران پر زمینی حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زمینی کارروائیوں اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے سے متعلق بار بار دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ منصوبوں کو حقیقت سےعاری قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ امریکی قیادت نے فوج کی کمان ایسے فرد کے سپرد کر دی ہے جس کے فیصلوں نے امریکی افواج کو بدترین دلدل میں دھکیل دیا ہے اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو روزانہ کی بنیاد پر سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج تباہ شدہ اڈوں سے پسپا ہو چکی ہیں اورعلاقائی ممالک کے شہری و معاشی مراکز میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، اس کے باوجود وہ اب بھی ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
انراحیم ذوالفقاری نے زمینی حملے سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج طویل عرصے سے اس طرح کی صورت حال کے لیے تیار اور جواب دینے کے لیے منتظر ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت یا قبضے کی کوشش کی صورت میں حملہ آور افواج کو گرفتاری اور مکمل تباہی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکی کمانڈرز اور فوجی بالآخر خلیج فارس میں شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے۔
امریکی قیادت پر زور دیتےہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ماضی میں غیر ملکی حملہ آوروں کے ساتھ ہونے والے تجربات سے سبق سیکھیں اور خبردار کیا کہ غلط فیصلے امریکی افواج کے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
انراحیم ذوالفقاری نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی عملی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
زمینی حملے کی کوشش کا نتیجہ امریکی فوج اور خطے میں اتحادیوں کیلئے سنگین ہوگا، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکانے ایران پر زمینی حملے کی کوشش کی تو امریکی فوج اور خطے میـں ان کے اتحادیوں کو تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ امریاک کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی زمینی حملے کی کوشش کا نتیجہ امریکی افواج اور خطے میں ان کے اتحادیوں کے لیے بدترین نتیجے کی صورت میں نکلے گا، سڑکوں پر لاکھوں ایرانیوں کی موجودگی ملک کی سماجی طاقت کی عکاسی ہے جو دشمن کا مقابلہ کرنے میں براہ راست کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یک جہتی نے ایرانی معاشرے کو تقسیم کرنے کی مخالفانہ کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے اور بیرونی دباؤ کے باوجود ملک مزید مضبوط اور متحد ہو گیا ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں جن میں عسکری ناکامیاں اور معاشی دباؤ شامل ہیں اور جنگ کے شروع میں مقرر کیے گئے ان کے مقاصد بھی پورے نہیں ہو سکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مزاحمتی گروپس نے مخالف قوتوں پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے میدان جنگ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا بظاہر مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی زمینی حملے کے منصوبے بھی بنا رہا ہے لیکن ایرانی افواج ایسے کسی بھی منظرنامے کے لیے تیار ہیں اور فیصلہ کن جواب دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کرے گا جو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو اور فتح حاصل ہونے تک اپنا راستہ جاری رکھے گا اور موجودہ تنازع کا نتیجہ مستقبل میں کسی بھی جارح کے لیے ہمیشہ کے لیے سبق بنے گا۔
خیال رہے کہ دو روز قبل امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے بتایا تھا کہ ہزاروں میرینز کے دو دستے مشرق وسطیٰ بھیج دیے گئے ہیں جن میں سے پہلا مارچ کے آخر تک ایک بڑے ایمفیبیسئس اسالٹ جہاز کے ذریعے پہنچنے والا ہے اور ہزاروں ایلیٹ ایئربورن فوجیوں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔
مارکو روبیو نے ایران میں امریکی زمینی فوج کے حملوں کی رپورٹ کو مسترد کریا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مقاصد زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کرسکتا ہے۔