آسیہ اندرابی کا جرم

بھارت کی کسی کینگرو کورٹ نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی تو برادر محترم شیخ تجمل الاسلام کی یاد آئی۔

farooq.adilbhuta@gmail.com

بھارت کی کسی کینگرو کورٹ نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی تو برادر محترم شیخ تجمل الاسلام کی یاد آئی۔ اللہ تعالی ان کی قبر کو نور سے بھر دے، محترمہ آسیہ اندرابی کا پہلا تعارف ان ہی کے ذریعے ہوا۔ معلوم ہوا کہ کشمیر کے روایت پسند معاشرے میں آسیہ اندرابی کی خدمات نے دنیا ہی بدل ڈالی ہے جس کا اعتراف تاریخ کرے گی اور آنے والا زمانہ۔ لوگ کشمیر کی اس بیٹی پر فخر کیا کریں گے جس نے حق خود ارادیت سے محروم اس خطے کی بچیوں کو صرف تعلیم کے نور سے منور نہیں کیا بلکہ دین حق کے تقاضوں کے مطابق ان کی تربیت بھی کی۔ صرف تربیت نہیں کی، آزادی کا شعور دیا اور بالآخر انھیں تحریک آزادی کے مرکزی دھارے میں شامل کر دیا۔

عزیمت کیا ہے؟ ہم تاریخ کے تذکروں میں پڑھتے ہیں۔ یوں ان بہادر خواتین کے واقعات ماضی کی باتیں لگتی ہیں لیکن آسیہ اندرابی کا زمانہ تو وہی ہے جس میں ہم آپ رہتے ہیں۔ یوں عزیمت کو اس عظیم خاتون کی صورت اپنے عہد میں دیکھ سکتے ہیں۔ آسیہ اندرابی کی عمر صرف 64 برس ہے لیکن اپنی نصف صدی سے کچھ اوپر اس عمر کے پندرہ برس اس خاتون نے جیل میں بسر کیے ہیں۔ یہ ماجرا آسیہ اندرابی کا ہے لیکن ان کے شوہر عاشق حسین المعروف ڈاکٹر محمد قاسم کا معاملہ ان سے بھی بڑھ کر ہے۔ ان کی قید کا عرصہ 33 برس کو چھو رہا ہے۔

یہ جملہ شاید امیر شریعت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری کا ہے، انھوں نے فرمایا تھا کہ ہماری آدھی زندگی جیل میں گزر گئی اور آدھی ریل میں۔ ان دونوں میاں بیوی کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ جرم بے گناہی میں ان کی زندگی جیل میں گزر گئی یا پھر سفر میں۔ رہائی کا کوئی وقفہ آیا بھی تو مختصر۔ یہ کسی ایسے ہی وقفے کی برکت تھی جب قسمت نے جذبہ حریت سے سرشار ان دو روحوں کو زندگی بھر کے بندھن میں باندھ دیا۔

ڈاکٹر محمد قاسم تحریک آزادی کشمیر کے ابتدائی مجاہدین میں سے ہیں۔ انھیں صاحب سیف و قلم بھی کہا جا سکتا ہے۔ لڑکپن اور نوجوانی میں آزادی کے متوالوں کی قیادت کی۔ اس جرم میں پکڑ لیے گئے تو انھوں نے قلم سے کام لیا۔ ان کی دس بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں اور بیشتر پر پابندی ہے۔ تیس برس کے ازدواجی بندھن میں کوئی ڈھائی تین برس ہی یہ میاں بیوی ساتھ رہ سکے ہوں گے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میاں بیوی جیل میں ہیں اور خاندان بکھر چکا ہے۔ عزیمت اور کسے کہتے ہیں؟

 اسی آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ کس جرم میں؟ یہ سوال دل چسپ ہے۔ ان پر کسی مسلح سرگرمی کا الزام نہیں۔ کسی کو انھوں نے قتل نہیں کیا۔ کسی کو انھوں نے کوئی زک نہیں پہنچائی۔ ان کا جرم اقامت دین ہے۔ اقامت دین کیا ہے؟ اس اصطلاح کا مفہوم پاکستان جیسے آزاد معاشروں میں جو بھی ہو، مقبوضہ کشمیر جیسے مسلم لیکن مجبور معاشرے میں تعلیم اور تربیت ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ آسیہ اندرابی کے مدرسۂ تربیت سے نکلنے والی بچیوں اور خواتین نے لکھنا پڑھنا سیکھا اور اپنے خاندان کو فرسودہ رسم و رواج سے محفوظ رکھ کر علم کا بول بالا کیا پھر یہ بچیاں با اختیار بنیں اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں شریک ہو گئیں۔ آسیہ اندرابی کی اقامت دین یہی تھی۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر ظرف رکھنے والا کوئی دشمن بھی اش اش کر اٹھتا لیکن آسیہ اندرابی کا دشمن جو دراصل انسانیت کا دشمن ہے، ظرف سے محروم ہے لہٰذا خواتین کی تعلیم اور تربیت ہی آسیہ اندرابی کا جرم بن گیا ہے۔

محمد بن قاسم آسیہ اندرابی اور ڈاکٹر محمد قاسم کے فرزند ہیں جو مسلم نیوز نامی ایک بین الاقوامی ادارے سے وابستہ ہیں۔ مقدمے کی تفصیلات جاننے کے لیے میری ان سے گفتگو رہی ہے۔ ان کی زبانی جو تفصیلات سامنے آئیں، حیران کر دینے والی ہیں۔ اس مقدمے کی کارروائی شمس الرحمن فاروقی مرحوم کے شہرہ آفاق ناول ' کئی چاند تھے سر آسماں' کی یاد دلاتی ہے۔ اس ناول میں انگریزی عہد میں ایک مقامی نواب کے خلاف مقدمے کی کہانی لکھی ہے جسے ایک انگریز سے ذاتی دشمنی کے مقدمے میں سزائے موت دے دی گئی۔ نواب کے خلاف کوئی مقدمہ تھا اور نہ کوئی ثبوت لیکن انگریز اپنی طاقت کے زور پر اسے قتل کرنا چاہتے تھے لہٰذا قتل کر دیا گیا یعنی جھوٹا مقدمہ، جھوٹے گواہ اور فرضی کارروائی۔

آسیہ اندرابی کے خلاف بھی یہ مقدمہ اسی طرح چلایا گیا۔ انھیں سزا دینے کے لیے استغاثہ کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ انھیں سزا کس جرم میں سنائی جائے۔ اسی مباحثے میں وکیل صفائی کے منھ سے کہیں یہ نکل گیا کہ آسیہ اندرابی کا جرم اس کے سوا کیا ہے کہ وہ اقامت دین کی خواہش مند ہیں اور اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ وکیل کے اس سخن نے استغاثہ اور جج کی مشکل آسان کر دی۔ اقامت دین کی اصطلاح جج کے لیے نئی تھی۔ وہ اس پر اٹک گئے اور اقامت دین کی کھوج میں لگ گئے۔ اطلاع ہے کہ اس مقصد کے لیے انھوں نے گوگل سے مدد لی۔ یوں جامعہ اسلامیہ بہاول پور کے کسی طالب علم کا اس موضوع پر اردو مقالہ ان کے ہاتھ لگا اور اردو سے نابلد جج نے اس کی مدد سے اقامت دین کی اصطلاح کو سمجھا اور آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ اس مقصد کے لیے وہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی سے بھی مدد لے سکتے تھے لیکن کیوں لیتے؟

 آسیہ اندرابی کا ایک جرم اور بھی ہے۔ عدالت نے ان سے پوچھا ہو گا کہ کیا آپ اپنے اس جرم پر شرمندہ ہیں؟ وہ کیوں اس پر شرمندہ ہوتیں؟ کون مسلمان ہو گا جو اقامت دین کے ' جرم ' پر شرمندگی اختیار کرے گا؟ ان کے نامۂ اعمال میں ایک جرم یہ بھی لکھ دیا گیا کہ وہ اپنے جرم پر شرمندہ بھی نہیں ہیں، بالکل اسی طرح جیسے اجمل قصاب شرمندہ نہیں تھا۔ بھارت کی نام نہاد عدالت سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہے کہ اجمل قصاب اور آسیہ اندرابی کا باہم کیا تعلق؟مرحوم و مغفور نعیم صدیقی کا ایک شعر ہے:

ہم لوگ اقراری مجرم ہیں،سن اے جباری مجرم ہیں

حق گوئی بھی ہے جرم کوئی تو پھر ہم بھاری مجرم ہیں

بس، آسیہ اندرابی بھی اقراری مجرم ہیں اور ایسے مجرموں کے لیے قرآن حکیم میں نفس مطمئنہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ آسیہ اندرابی اور ان جیسے اقراری مجرموں کو تو ایسے فیصلوں سے کچھ فرق نہیں پڑے گا لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کا شوق ہے، تاریخ اور انسانیت کی عدالت میں کیا جواب دے گا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت کے انصاف کا تصور دنیا بھر کے تصور انصاف سے مختلف ہے۔

بابری مسجد کے دہائیوں تک پھیل جانے والے مقدمے کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوا تو برادر محترم افتخار گیلانی کا ماتھا ٹھنکا اور انھوں نے بھارتی عدلیہ کے ججوں سے اس بارے گفتگو کی۔ افتخار گیلانی نے یہ تفصیل اپنی کتاب 'اکیسویں صدی کا بھارت اور مسلمان' میں درج کی ہے۔ بھارتی ججوں نے کہا کہ انصاف وہ نہیں جسے آپ انصاف سمجھتے ہیں بلکہ انصاف وہ ہے جو بھارتی عوام کی اکثریت کی نظر میں انصاف ہے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ آسیہ اندرابی کو وہی سزا سنا دی گئی جو ہندوتا کے پجاریوں کی خواہش تھی۔ آسیہ اندرابی کو 'انصاف' مل چکا ہے، پریشانی کیسی؟

Load Next Story