امریکا مذاکرات کی آڑ میں ایران پر زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، ایران کا بڑا دعویٰ

امریکا و اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں حملے کیے،جن میں اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی قیادت نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔

ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا بظاہر مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔

ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ توانائی کے مراکز پر حملے بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں حملے کیے، جن میں اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔

وسطی شہر اصفہان میں ایک یونیورسٹی پر بھی دوبارہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بھی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک سینکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ لبنان سے حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے، جس سے متعدد شہروں میں سائرن بج اٹھے۔

اسرائیل کے جنوبی صنعتی علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں ایک فیکٹری کو نقصان پہنچا جبکہ بعض علاقوں میں لوگ زخمی ہوئے۔ شمالی شہر حیفہ میں بھی میزائلوں کے ملبے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خلیجی ممالک میں بھی خطرے کی صورتحال برقرار ہے، جہاں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت اور بحرین میں سائرن بجائے گئے۔

اسی دوران پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں اہم اجلاس کیا، جس میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جس میں اب یمن کے حوثی گروپ بھی شامل ہو چکے ہیں، اور اس صورتحال سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story