سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کا بیوروکریسی کے رویے پر اظہار برہمی
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں ہوا، جس میں بیوروکریسی کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ افسران بڑے عہدے لیتے ہیں مگر اجلاس میں آنا پسند نہیں کرتے، یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔
اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے الزام عائد کیا کہ ڈپٹی کمشنر آئی آر فہیم نے سگریٹ چوری کی واردات کے بعد ڈی ایچ اے میں گھر خریدا، لہٰذا ان کی منی ٹریل حاصل کی جائے۔
کمیٹی نے ایک نجی کمپنی کے مالک کا بیان ریکارڈ نہ کرنے پر ایف آئی اے افسر کی سرزنش کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر 18 دن میں کمپنی مالک کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکا تو انکوائری کیسے مکمل ہوگی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل نیازی نے کمیٹی کو بتایا کہ نجی کمپنی کے حوالے سے کافی شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی تمام گاڑیوں کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ نجی کمپنی کے مالک کو 2 اپریل تک گرفتار کیا جائے اور کروڑوں روپے مالیت کی سگریٹ برآمد کی جائے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے چیئرمین ایف بی آر کو بھی طلب کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نہ آئیں تو گرفتار کیا جائے، جس پر چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے ایسا کرنے سے گریز کا مشورہ دیا۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے ایف آئی اے حکام سے سوال کیا کہ نجی کمپنی کے اصل مالک کا نام کیا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ نام فائل میں موجود ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نام ہی معلوم نہیں تو تحقیقات کیسے کی جا رہی ہیں۔ بعد ازاں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ کمپنی کے مالک کا نام ثاقب خان ہے اور مکمل ریکارڈ کے لیے مختلف اداروں کو خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کمپنی کے قانونی ہونے سے متعلق تمام دستاویزات پیش کی جائیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ مشینری سے متعلق زبانی بات قابل قبول نہیں، مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
ایف بی آر حکام پشاور نے بتایا کہ مشینری پیراماؤنٹ کے نام پر درآمد نہیں کی گئی۔ انکم ٹیکس ریکارڈ میں مشینری کی مالیت 35 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی، جبکہ حکام کے مطابق 11 مشینریوں کی موجودہ مالیت 60 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ یہ مالیت 2018 کے انکم ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کی گئی تھی۔