ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ پینشن کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کیخلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اختر بلند رانا کو سول سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ پینشن کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ وزارتِ خزانہ نے پینشن کے بقایاجات کی ادائیگی کی منظوری کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کر لی۔
عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق اختر بلند رانا کے پینشن کے کل بقایاجات 24 ملین روپے بنتے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ماہ میں بقایاجات جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار سول سرونٹ تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد آڈیٹر جنرل پاکستان ریونیو تعینات کیے گئے؟
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سول سروس سے ریٹائرمنٹ پر ان کی پینشن شروع ہی نہیں ہوئی تھی، تاہم اب ماہانہ پینشن ادا کی جا رہی ہے جبکہ بقایاجات کی منظوری وزارتِ خزانہ سے ہونی ہے۔
وکیل درخواست گزار سردار تیمور اسلم نے تصدیق کی کہ ماہانہ پینشن مل رہی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کریں ورنہ مشکل ہوگی، حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ کیس لڑ رہی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ درخواست گزار کو بطور آڈیٹر جنرل سروس سے مس کنڈکٹ پر نکالا گیا، تاہم سابقہ سول سروس مکمل ہو چکی ہے اس کے بقایاجات ادا کیے جائیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ادائیگی کے وقت درخواست گزار سے بیانِ حلفی لیا جائے کہ اگر ڈویژن بینچ فیصلہ کالعدم قرار دے تو رقم واپس کی جائے گی۔
عدالت نے وزارتِ خزانہ کو مہلت دیتے ہوئے سماعت 4 مئی تک ملتوی کر دی۔