کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اچانک منسوخ

پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا

کوئٹہ:

صبح کی دھوپ ابھی پوری طرح پھیل بھی نہیں پائی تھی کہ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ایک بڑا دھچکا لگا۔ جعفر ایکسپریس وہ مشہور ٹرین جو بلوچستان کے صحراؤں سے گزرتے ہوئے پشاور تک لوگوں کے خواب، کاروبار اور رشتوں کو جوڑتی ہے، آج کی سروس مکمل طور پر منسوخ کر دی گئی۔

ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریک پر فوری مرمتی کام کی وجہ سے یہ ناگزیر فیصلہ کیا گیا، مگر مسافروں کے چہروں پر مایوسی اور غصے کی لکیریں صاف نظر آ رہی تھیں۔ اسی طرح، پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔

ٹرین میں سوار مسافر گھنٹوں انتظار میں بیٹھے رہے، کچھ تو اپنے گھر والوں کو فون کر کے بتا رہے تھے کہ ’’ابھی نہیں پہنچ سکتا، ٹرین رک گئی ہے۔‘‘

ریلوے حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ بندش صرف ایک دن کی ہے اور کل تک سروس بحال ہو جائے گی، مگر اس ایک دن نے ہی کئی خاندانوں کے منصوبے درہم برہم کر دیے۔ کوئٹہ اسٹیشن پر صبح سے ہی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ٹکٹ ہاتھ میں لیے مسافر کاؤنٹرز کے سامنے قطاروں میں کھڑے تھے۔

ایک بزرگ مسافر حاجی عبدالرحمان نے دل برداشتہ ہو کر کہا کہ بیٹا، میں اپنی بیٹی سے ملنے پشاور جا رہا تھا۔ تین مہینے بعد موقع ملا تھا، اب یہ ٹرین بھی نہیں چل رہی۔ ریلوے والے کہتے ہیں ٹریک کی مرمت ہے، مگر ہمارا کیا بنے گا؟

دوسری جانب نوجوان طالب علم علی حسن نے ایکسپریس کو بتایا کہ میں یونیورسٹی کے امتحان کے لیے پشاور جا رہا تھا۔ اب متبادل کیا کروں؟ بسوں میں بھی رش ہے اور کرایہ بھی ڈبل جبکہ بارشوں کی وجہ سے قومی شاہراہ بھی بند ہے۔ ریلوے حکام کو چاہیے تھا کہ پہلے سے اعلان کر کے متبادل کا بندوبست کرتے۔

دوسری جانب، جیکب آباد میں رک جانے والی ٹرین کے مسافروں کی پریشانی اور بھی زیادہ تھی۔ کچھ لوگ پلیٹ فارم پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے تو کچھ ٹرین کے اندر ہی سو گئے۔ ریلوے اسٹاف صرف اعلانات کر رہا تھا کہ مرمت جلد مکمل ہو جائے گی۔

مسافروں کے مطابق ریلوے مسلسل بحران کا شکار ہے اور یہ صرف جعفر ایکسپریس کا مسئلہ نہیں۔ کراچی جانے والی بولان میل اور چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرینوں کی سروسز پہلے ہی کئی دنوں سے بند پڑی ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسافر اب شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک کی خراب حالت، پرانی لائنز اور کبھی کبھار سیلاب کی وجہ سے ایسی مرمتیں بار بار ضروری ہو جاتی ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ مرمت کے دوران کوئی بڑا حادثہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے، مگر مسافروں کا سوال ہے کہ کیا ہر بار مرمت کے نام پر سروس بند کرنا ہی واحد حل ہے؟

کوئٹہ ڈویژن کے ریلوے حکام نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے، ٹریک کی مرمت ناگزیر تھی۔ تمام متاثرہ مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کر دی جائے گی اور کل صبح تک جعفر ایکسپریس معمول کے مطابق چلے گی تاہم مسافر اس پر مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف رقم واپس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا انہیں فوری متبادل ٹرانسپورٹ، بسوں کا بندوبست یا کم از کم شفاف معلومات چاہیے۔

ریلوے انتظامیہ نے رات بھر مرمت کا کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ریلوے ہیلپ لائن پر رابطہ کریں یا آن لائن پورٹل اور ایپلیکیشن ٹریک مائی ٹرین چیک کرتے رہیں۔

بلوچستان کے مسافر طویل عرصے سے ریلوے انفرا اسٹرکچر کی بہتری، نئی ٹرینوں اور بروقت سروس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج کی یہ منسوخی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر رہی ہے کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، ایسے اچانک فیصلے مسافروں کی زندگی کو متاثر کرتے رہیں گے۔

Load Next Story