ایران جنگ کا 31 واں دن، تہران پر امریکا و اسرائیل کے شدید حملے، زمینی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تہران میں حکومتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ 31 ویں روز بھی جاری ہے جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور ممکنہ زمینی جنگ کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب سفارتی حل کی بات کر رہے ہیں، تاہم دوسری طرف ایران نے امریکا پر ممکنہ زمینی حملے کی تیاری کا الزام عائد کیا ہے۔ ادھر پاکستان کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔

ایرانی دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تہران میں حکومتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حملوں کے باعث دارالحکومت میں بجلی کا نظام متاثر ہوا، تاہم ایرانی حکام کے مطابق بعد میں بجلی بحال کر دی گئی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا بظاہر مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی زمینی حملے کی تیاری بھی کر رہا ہے، اور اگر امریکی فوج ایران میں داخل ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف شہروں جیسے کرج، شیراز، قم، آبادان اور تبریز میں حملوں کی اطلاعات ملی ہیں، جبکہ تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ میں آگ لگنے کی بھی خبر سامنے آئی، جسے بعد میں قابو میں لے لیا گیا۔

خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے کی جانب آنے والے پانچ بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ کویت میں ایک پاور اور واٹر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایک غیر ملکی شہری ہلاک ہوا۔ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی گئی۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ممکنہ طور پر خارگ جزیرے جیسے اہم مقامات پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی ہو چکی ہے، تاہم اس بیان پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔

اسرائیل میں بھی ایرانی حملوں کے اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں ایک صنعتی پلانٹ کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ لبنان، عراق اور غزہ میں بھی جھڑپیں اور حملے جاری رہے، جس سے خطے میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

ادھر عالمی معیشت بھی اس جنگ سے متاثر ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوئی تو عالمی خوراک اور توانائی کے بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

Load Next Story