انصاف کے دروازے بند کرکے سڑکوں پر بھی نہیں آنے دے رہے، یہ بادشاہت کب تک چلے گی؟ بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں سیاسی مسئلو ں کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے، پی ٹی آئی کا واضح موقف ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے، بانی کے بچوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی نہ ہم کرینگے، بانی کے بچوں کی باتوں کو متنازعہ بنایا جارہا ہے۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگومیں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو لوگ ملاقاتوں میں رکاوٹ ہیں انہیں عوام کے جذبات کا خیال نہیں، پہلے عمران خان کی ملاقاتیں بند کی گئیں، بشری بی بی کی ملاقاتیں بند کردی گئیں بانی کی آنکھ کا مسئلہ بنا ملاقات دی گئی نہ انکی بچوں سے بات ہونے دی گئی بشری بی بی کی آنکھ کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے انکی فیملی کو بھی ملاقات نہیں دی جارہی گزشتہ چار ہفتوں سے بشری بی بی کی ملاقات بند ہےہم نہیں چاہتے ملک میں تناو اور انارکی جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صبح 11 بجے میرا واٹس ایپ اکاونٹ ہیک ہوگیا میں نے ایف آئی اے کو رپورٹ کیا، ایف آئی اے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، میرے واٹس سے لوگوں کو میسیجز جارہے ہیں میں نے ایکس اور فیس بک پر پیغام لکھا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اچکزئی صاحب آج واپس آرہے ہیں کل ہماری پارلیما نی کمیٹی کا اجلاس ہے، کل پارلیمانی پارٹی کی طویل نشست ہے جہاں تمام معاملات پر گفتگو ہوگی، بانی نے اختیارات محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیے ہیں، ہم چاہتے ہیں سیاسی مسئلوں کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے، کچھ لوگ ہیں جو مسائل کا سیاسی حل نہیں چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 14 ماہ بعد بھی بانی کی سزاؤں کی معطلی پر فیصلہ نہ ہوسکا، عدالت نے کہا ہے اب مرکزی اپیلوں پر فیصلے ہوں گے، انصاف کے دروازے بند کرکے آپ لوگوں سڑکوں پر بھی نہیں آنے دے رہے، یہ بادشاہت اور ظلم کب تک چلے گا؟ عوام کے جذبات کو زیادہ دیر دبایا نہیں جاسکتا، سو فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں بانی کو سیاسی بنیادوں پر جیل میں رکھا گیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کا واضح موقف ہے سب سے پہلے پاکستان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی کے بچوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی نہ ہم کرینگے اگر بانی کے بچے بھی کبھی پاکستان کے خلاف بات کرینگے تو ہم اسکی کی حمایت نہیں کرینگے، بانی کے بچوں کی باتوں کو متناز عہ بنایا جارہا ہے پاکستان کے جی ایس پی پلس کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فی الوقت ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں ہورہے یہ صوابدید اچکزئی صاحب کی ہے، 2025ء کے بعد پاکستان نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں ہم نے بھرپور ساتھ دیا، سعودی عرب نے جوابی حملے نہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے، سعودی عرب کی وجہ سے مسلمان مشرق وسطٰی کی جنگ میں نہیں کودے، پی ٹی آئی چاہتی ہے یہ جنگ جلد ختم ہو، حکومت نے کیا معاہدے کیے ہیں آج تک پارلیمینٹ کو نہیں بتایا گیا، پاکستان ثالثی کر رہا ہے یہ بھی پارلیمینٹ کو نہیں بتایا جارہا، پاکستان کے اچھے کردار پر ہم کبھی نہیں کہیں گے کہ اسکا کریڈٹ پاکستان کو نہیں ملنا چاہیئے ہمارا مطالبہ ہے پاکستان کی جو بھی پالیسی ہے اس پر پارلیمینٹ کو اعتماد میں لیا جائے مگر افسوس کا مقام ہے اتنی بڑی جنگ ہورہی ہے اور پار لیمینٹ بےخبر ہے حکومت نے آج تک پارلیمینٹ کو نہیں بتایا ہم ثالثی کررہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گزشتہ روز ہماری پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں احتجاج پر کوئی بات نہیں ہوئی، سہیل آفریدی جو کہہ رہے ہیں اللہ نہ کرے کسی کی لاش گرے، اللہ نہ کرے کہ کوئی گولی چلے، ہم پرامن لوگ ہیں عوام کو ڈرانے کی ضرورت نہیں کہ گولی چلے گی یا یہ ہوگا وہ ہوگا، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی کے کیسز سنے جائیں، ہم نہیں چاہتے پی ٹی آئی کا ورکر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے، ہم چاہتے ہیں بشری بی بی کی ملاقات کرائی جائے کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔
انہوں ںے مزید کہا کہ ہمیں بانی اور ان کی اہلیہ کے حوالے سے تشویش ہے، فی الحال ہم یہ نہیں سوچ رہے کہ قائمہ کمیٹیز میں واپس جائیں، کمیٹیوں سے نکلنے کا فیصلہ بانی کا تھا وہی اس بارے فیصلہ کرسکتے ہیں۔