کھانے کے بعد صرف 15 منٹ چہل قدمی کے صحت پر حیران کن اثرات
ماہرینِ صحت نے ایک سادہ مگر مؤثر عادت کی نشاندہی کی ہے جو روزمرہ زندگی میں شامل کر کے بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد محض 10 سے 15 منٹ کی ہلکی چہل قدمی جسم پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے، جو نہ صرف ہاضمے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔
تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے فوراً بعد تھوڑی دیر چلنے سے معدہ اور آنتوں کی کارکردگی تیز ہو جاتی ہے، جس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور بدہضمی یا بھاری پن کی شکایت کم ہو جاتی ہے۔
اسی کے ساتھ یہ معمول خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ چہل قدمی کے دوران پٹھے گلوکوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے شوگر لیول اچانک بڑھنے سے بچ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مکمل ورزش کا نعم البدل نہیں، لیکن روزانہ کی بنیاد پر مختصر واک وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اضافی کیلوریز جلانے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری کھانے کی عادت کو بھی کم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہلکی پھلکی چہل قدمی ذہنی سکون میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ اس سے خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو تناؤ کو کم کرتے ہیں اور توجہ بہتر بناتے ہیں۔
دل کی صحت کے حوالے سے بھی یہ عادت نہایت مفید قرار دی گئی ہے۔ چہل قدمی خون کی روانی کو بہتر بناتی ہے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نیند کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے، خاص طور پر اگر شام کے وقت ہلکی سرگرمی اپنائی جائے۔
ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد 30 سے 60 منٹ کے اندر ہلکی یا درمیانی رفتار سے واک کرنا بہترین نتائج دیتا ہے۔ اگر فوری طور پر چلنا ممکن نہ ہو تو چند منٹ انتظار کے بعد چہل قدمی شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد فوراً لیٹنے یا موبائل میں مصروف ہونے کے بجائے یہ چھوٹی سی عادت اپنانا طویل مدت میں صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔