نیٹو آبنائے ہرمز میں جارحیت کیلئے نہیں بنا، فرانس کا امریکا کو سخت جواب

فرانس آبنائے ہرمز کو جارحانہ انداز میں کھولنے کے بجائے آزادانہ اور مؤثر انداز میں بحالی کے منصوبے کے حق میں ہے، وزیر

فوٹو: فائل

فرانس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے دستبرداری کی دھمکی پر سخت جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نیٹو ایک فوجی اتحاد ہے اور اس کا قیام یورو-اٹلانٹک علاقے کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ہے نہ کہ آبنائے ہرمز میں جارحانہ حملے شروع کرنے کے لیے ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق پیرس میں وار اینڈ پیرس کانفرنس میں فرانس کی جونیئر آرمی وزیر الیس روفو نے بتایا کہ میں یاد دلانا چاہتی ہوں کہ نیٹو کیا ہے، یہ ایک فوجی اتحاد ہے، جس کا مقصد یورو اٹلانٹک خطے میں سیکیورٹی ہے، یہ اس لیے نہیں تشکیل دیا گیا کہ آبنائے ہرمز پر حملے کیے جائیں جو ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہو امریکی آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کے لیے اتحاد میں شرکت سے فرانس کے انکار سے ناراض ہیں لیکن پیرس آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے آزادانہ اور مؤثر انداز میں بحالی کے منصوبے کے حق میں ہے۔

ایمانوئیل میکرون کی قریبی تصور کی جانے والی سفارتی امور میں تجربہ رکھنے والی وزیر نے بتایا کہ میں اس چڑچڑے پن کو سمجھ سکتی ہوں لیکن میں امریکا کی طرف سے بات نہیں کر رہی ہوں بلکہ میں ایک ملک کے لیے بات کر رہی ہوں جو اٹلانٹک الائنس (نیٹو) کا ایک بانی رکن ہے اور یورپی یونین کا بھی بانی رکن ہے۔

الیس روفو نے کہا کہ فرانس گزشتہ 20 برس سے کہہ رہا ہے کہ یورپ کے لوگوں کو یورپ میں مشترکہ دفاع کے لیے زیادہ حصے کی ذمہ داری لینی چاہیے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے تجویز دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے، جس کے لیے اقدامات اقوام متحدہ کے فریم ورک میں ہونا چاہیے کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے امریکا کی دستبرداری پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے اتحادی ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی مدد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

فرانس نے اسی طرح اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، جس کے تحت اسرائیل چاہتا تھا کہ امریکی اسلحے کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کے لیے منتقل کیا جائے۔

متعلقہ

Load Next Story