ڈیجیٹل دور میں کلاسک گھڑیوں کا جادو: جین زی کیوں ہو رہی ہے ماضی کی دیوانی؟

اب گھڑیوں میں مردانہ اور زنانہ کی تفریق بھی دھندلا رہی ہے

ایک ایسے زمانے میں جب وقت دیکھنے کے لیے اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل اسکرینز ہر جگہ موجود ہیں، نوجوان نسل یعنی جین زی روایتی کلائی پر باندھنے والی گھڑیوں کی طرف تیزی سے مائل ہورہی ہے۔ حیران کن طور پر وہی گھڑیاں جنہیں کبھی پرانا اور غیر ضروری سمجھا جانے لگا تھا، آج کے نوجوانوں کے لیے ایک خاص کشش اور جذباتی اہمیت اختیار کرچکی ہیں۔

امریکا کی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ یوٹیوبر ایون فرائی اس رجحان کی واضح مثال ہیں، جن کے پاس 35 سے زائد قیمتی گھڑیاں موجود ہیں۔ ان کے کلیکشن میں سب سے نمایاں ’ٹیگ ہیور کیریرا‘ ہے، جسے انہوں نے ہالی ووڈ اداکار ریان گوسلنگ سے متاثر ہو کر خریدا۔ ایون کے مطابق گھڑیاں محض وقت بتانے کا ذریعہ نہیں بلکہ یادوں اور تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔

مارکیٹ رپورٹس بھی اس رجحان کی تصدیق کرتی ہیں۔ لگژری گھڑیوں کے ری سیل پلیٹ فارم ’بیزل‘ کے مطابق ان کی فروخت کا تقریباً ایک تہائی حصہ 30 سال سے کم عمر خریداروں پر مشتمل ہے، جو نہ صرف گھڑیاں خرید رہے ہیں بلکہ مہنگی گھڑیوں پر زیادہ خرچ بھی کر رہے ہیں۔

اسی طرح ’کرونو 24‘ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کلاسک ڈریس واچز کی خریداری میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ جین زی مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں پلی بڑھی ہے، اس لیے اس میں ایسی چیزوں کی خواہش زیادہ ہے جو حقیقی ہوں، جنہیں چھوا جا سکے اور جو وقت کے ساتھ قائم رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اکثر ایسی گھڑیاں تلاش کرتے ہیں جو ماضی کی یادوں سے جڑی ہوں، جیسے وہ ڈیزائن جو ان کی دادی یا نانی استعمال کیا کرتی تھیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اب گھڑیوں میں مردانہ اور زنانہ کی تفریق بھی دھندلا رہی ہے۔ نوجوان لڑکے بھی باریک اور نفیس ڈیزائن کی گھڑیاں پہننے لگے ہیں، جس کا رجحان معروف شخصیات کے انداز سے مزید مضبوط ہوا ہے۔ بڑے ایوارڈ شوز میں جب اداکار منفرد گھڑیاں پہن کر نظر آتے ہیں تو ان ڈیزائنز کی مانگ میں فوری اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کی نسل کے لیے گھڑی کا مقصد صرف وقت دیکھنا نہیں رہا۔ کچھ نوجوان ایسی گھڑیاں بھی خرید لیتے ہیں جو چلتی بھی نہیں، کیونکہ وہ انہیں فیشن ایکسیسریز یا زیور کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض کم عمر صارفین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں سوئیوں والی گھڑی سے وقت پڑھنا نہیں آتا، مگر اس کے باوجود وہ اسے پہننا پسند کرتے ہیں۔

یہ بدلتا ہوا رجحان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کلاسک اور مکینیکل چیزوں کی اہمیت ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک نئے انداز میں دوبارہ مقبول ہو رہی ہیں، جہاں گھڑی صرف وقت نہیں بلکہ شخصیت، یاد اور انداز کی نمائندگی بن چکی ہے۔

Load Next Story