ویپنگ کے استعمال سے پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا خطرہ

یہ تاثر درست نہیں کہ ویپنگ مکمل طور پر محفوظ متبادل ہے

آسٹریلیا میں کی جانے والی ایک جامع سائنسی تحقیق نے ای سگریٹ یعنی ویپنگ کے حوالے سے تشویشناک انکشافات سامنے لاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا استعمال پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر سے جڑا ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ حتمی اور طویل المدتی شواہد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنسدانوں کی نگرانی میں کی گئی، جس میں 2017 سے 2025 تک شائع ہونے والی مختلف سائنسی رپورٹس، انسانی کیس اسٹڈیز، لیبارٹری تجربات اور جانوروں پر کی گئی تحقیق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا نکوٹین پر مشتمل ای سگریٹس کینسر کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔

نتائج کے مطابق ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی حیاتیاتی اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جن میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش میں اضافہ شامل ہیں۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ’کارسینوجینیسیس‘ میں شائع ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ ویپنگ کینسر سے پہلے پیدا ہونے والی خطرناک تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کے بخارات کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگرچہ ای سگریٹس نسبتاً نئی ایجاد ہیں اور طویل المدتی انسانی ڈیٹا ابھی محدود ہے، تاہم کچھ کیسز ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں صرف ویپنگ کرنے والے افراد میں منہ کے کینسر کی تشخیص ہوئی، حالانکہ وہ روایتی سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے۔

اسی طرح جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ای سگریٹ کے بخارات کے زیرِ اثر آنے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے ٹیومرز زیادہ بنے، اگرچہ ماہرین کے مطابق ان نتائج کو براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈی سیتاس کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ویپنگ مکمل طور پر محفوظ متبادل ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں سگریٹ کے نقصانات کو تسلیم کرنے میں دہائیاں لگیں، اس لیے ویپنگ کے ابتدائی انتباہی شواہد کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے حکومتوں اور صحت کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ خصوصاً نوجوانوں کو ویپنگ کے بڑھتے رجحان سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تاہم کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ تحقیق کی بنیاد پر ویپنگ کو روایتی سگریٹ کے برابر نقصان دہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اس میں جلنے والے کیمیائی مادے شامل نہیں ہوتے۔

مجموعی طور پر یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویپنگ کو بے ضرر سمجھنا ایک غلط فہمی ہو سکتی ہے، اور اس کے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

Load Next Story