پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کرنےکا اعلان، موٹرسائیکل والوں کو ہر ماہ 2 ہزار کی سبسڈی ملے گی

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔

وزیرپیٹرولیم اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے عالمی بحران اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔

وزیرپیٹرولیم نے بتایا کہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈیوں کی صورت حال کے پیش نظر سبسڈی صرف مخصوص طبقے کو دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگلے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی قیمت اضافے کے بعد 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے مقرر کی ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے، اس وقت قوم کو اتحاد اور نظم و ضبط کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نکلنے کیلیے مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے جارہی ہے، مہنگائی کے طوفان کو برپا کرنے میں حکومت کا کردار نہیں البتہ دو سال میں کابینہ نے معاشی استحکام اور جامع پائیداری کیلیے جو اقدامات کیے وہ سفر عالمی صورت حال کی وجہ سے رُک گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خارجہ محاذ پر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل کی کاوشوں کے ساتھ اس آگ کو بجھانے کی بھرپور کوشش کرنی ہے تاکہ پرانے راستے کی طرف جاسکیں۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان دبئی اور عمان سے 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے وہاں کی منڈیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل تاریخ کی بلند ترین سطح 250 ڈالر فی بیرل سے زائد قیمت پر پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ تنخواہوں کی کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔

وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ بہت سے ممالک امیر اور اُن کے پاس ذخائر ہیں مگر وہاں توانائی کی ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ پمپس پر پولیس یا مسلح افواج موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کی تکلیف کا احساس ہے مگر عالمی معاہدوں اور معاشی صورت حال کی وجہ سے پیسے بڑھانا ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اہم بیٹھک ہوئی جس میں وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت موجود تھی اور اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل میں عالمی منڈیوں کے ریٹ پر سب کو مزید ریلیف نہیں دیا جاسکتا ورنہ پاکستان پرانے راستے پر چل پڑے گا مگر عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اب صرف مخصوص صارفین کو ریلیف دینا ہوگا۔

حکومت کا سبسڈی کا اعلان

وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے موٹرسائیکل والوں کیلیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی مقرر کی ہے اور ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول سبسڈی پر دیا جائے گا جبکہ اس کا اطلاق تین ماہ کیلیے ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ چھوٹے ذمینداروں کیلیے فصل کی کٹائی کے وقت 1500 روپے ایک بار سبسڈی دی جائے گی جبکہ انٹر سٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کیلیے 100 روپے فی لیٹر، مال بردار ٹرک کیلیے ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑی مال بردار گاڑیوں کیلیے 80 ہزار روپے، مسافر بسوں کیلیے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت ایک ماہ بعد سبسڈی کے حوالے سے پھر نظر ثانی کرے گی، ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی جس کا فائدہ لوئر کلاس کے مسافروں کو ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مارکیٹیں دن کے اوقات میں کھلیں گی تاکہ بجلی کی کھپت اور ایندھن کو بچایا جائے، مارکیٹ کے اوقات صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر کے اگلے ہفتے تک طے کرلیے جائیں گے۔

Load Next Story