8 سالہ قانونی جنگ ختم، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا پہلا ردعمل
پاکستان کے معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر نے ساتھی گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔
علی ظفر نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ ایک طویل اور صبر آزما قانونی مرحلے کے بعد انہیں بالآخر انصاف ملا ہے۔
یہ کیس تقریباً آٹھ سال تک جاری رہا، جس کا فیصلہ 31 مارچ کو سامنے آیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ میشا شفیع نہ تو متعدد پیشیوں پر عدالت میں حاضر ہوئیں اور نہ ہی وہ اپنے الزامات کے حق میں مضبوط شواہد پیش کرسکیں، جبکہ علی ظفر کی جانب سے تمام گواہان عدالت میں پیش کیے گئے، جس کے بعد فیصلہ ان کے حق میں سنایا گیا۔
اپنی قانونی کامیابی کے دو روز بعد علی ظفر نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ کے شکر گزار ہیں اور ان تمام افراد کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور سچ کا دفاع کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس کامیابی کو کسی جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے دل میں عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔ علی ظفر کے مطابق ان کے لیے اصل خوشی انصاف کے ملنے کی ہے، نہ کہ کسی کے خلاف جیت کا احساس۔
اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک یہ معاملہ اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔
یاد رہے کہ لاہور کی ایک عدالت نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کیس 2018 میں اس وقت شروع ہوا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے، جس کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ پاکستان کے نمایاں ترین ’می ٹو‘ کیسز میں شمار کیا جاتا ہے۔