ایران جنگ کا 35 واں روز: حملوں کا دائرہ کار فوجی تنصیبات سے شہری انفراسٹرکچر تک بڑھ گیا

تازہ حملوں میں ایک صدی پرانے طبی تحقیقاتی ادارے، اسٹیل پلانٹس اور تہران کے قریب ایک پل کو نشانہ بنایا گیا

ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل  کی جنگ 35 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے جبکہ حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہو کر دارالحکومت تہران اور اس کے اطراف تک پھیل گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک صدی پرانے طبی تحقیقاتی ادارے، اسٹیل پلانٹس اور تہران کے قریب ایک پل کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پل کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ یہ شہری انفرااسٹرکچر تھا، جسے نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 2,076 افراد جاں بحق اور 26 ہزار 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 600 سے زیادہ اسکول اور تعلیمی مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے دشمنوں کو شکست یا پسپائی کا سامنا نہیں ہوتا۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ملک ہر قسم کے حملے، حتیٰ کہ زمینی کارروائی کے لیے بھی تیار ہے۔

سفارتی صورتحال

پاکستان نے ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاہم حکام نے تسلیم کیا ہے کہ امن کے راستے میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ تقریباً 40 ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، کیونکہ اس اہم راستے کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر دیا ہے۔

خلیجی ممالک میں صورتحال

متحدہ عرب امارات میں گرنے والے ملبے سے ایک غیر ملکی مزدور ہلاک ہو گیا، جبکہ بحرین میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔

سعودی عربیہ نے ایک ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ کویت کے ایئرپورٹ پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا۔

امریکا میں پیش رفت

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا، جسے جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی شرائط قبول نہ کیں تو مزید انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسرائیل اور خطے میں صورتحال

تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں سائرن معمول بن چکے ہیں، جبکہ شمالی محاذ پر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

عراق میں امریکی اڈوں پر حملوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ شام میں بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔

عالمی اثرات

عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگ کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

متعلقہ

Load Next Story