ٹرمپ حکومت میں ہلچل! بڑی برطرفیوں کا آغاز، مزید نام بھی سامنے آ گئے

حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے اعلیٰ حکام میں بے چینی پیدا کر دی ہے

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے بعد مزید اہم عہدوں پر برطرفیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے اعلیٰ حکام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

خاص طور پر اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی کے بعد کابینہ کے اندر غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، اور کئی سینئر افسران اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ممکنہ برطرفیوں کی فہرست میں کاش پاٹیل، سیکرٹری آرمی ڈینئیل ڈرسکول اور وزیر محنت شاویز دریمر کے نام بھی زیر گردش ہیں۔ تاہم ان ممکنہ فیصلوں کے بارے میں ابھی تک باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ادھر گزشتہ ماہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نیوم کو بھی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے، جس کے بعد سے حکومتی حلقوں میں مسلسل تبدیلیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلیاں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور حکومتی ڈھانچے کو مزید اپنے وژن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں، تاہم اس عمل نے حکومتی استحکام اور فیصلہ سازی پر سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

Load Next Story