بین الاقوامی قوانین کے 100 سے زائد ماہرین نے ایران پر حملوں کو جنگی جرائم قرار دے دیا

28 فروری کو شروع ہونے والے امریکا اسرائیل حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر کیے گئے

امریکا میں مقیم 100 سے زائد بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کے طرز عمل اور سینئر امریکی حکام کے بیانات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکا اسرائیل حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر اور کسی ایرانی خطرے کے معتبر ثبوت کے بغیر شروع کی گئی۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی دوسری ریاست کے خلاف طاقت صرف اپنے دفاع میں کسی حقیقی یا مسلح حملے کے خلاف یا جہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اجازت دی گئی ہے، استعمال کی جاسکتی ہے۔

جبکہ سلامتی کونسل نے نہ ہی حملے کی اجازت دی اور نہ ایران نے اسرائیل یا امریکا پر حملہ کیا۔

Load Next Story