کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا پیٹرول قیمتوں میں اضافے پر اجلاس، ہڑتال پر اتفاق نہ ہو سکا
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے معاملے پر کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے بس اونرز، منی کوچ، مزدا اور دیگر نمائندہ تنظیموں کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں ابتدائی طور پر علامتی اور بعد ازاں غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی تجویز دی گئی، تاہم پبلک ٹرانسپورٹرز کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد حاجی تواب خان نے کہا کہ حالیہ اضافے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل پر جتنا اضافہ ہوا اتنا کبھی پورے سال میں نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے قرضے ٹرانسپورٹرز کی جیب سے نکالنا چاہتی ہے اور ہر ٹرانسپورٹر ایندھن کی مد میں یومیہ تقریباً 15 ہزار روپے کے اضافی اخراجات برداشت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایک گاڑی پر ماہانہ اخراجات تقریباً تین لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹرز نے رضاکارانہ طور پر گاڑیاں اڈوں پر کھڑی کر دیں۔
حاجی تواب خان کے مطابق موجودہ قیمتوں کے حساب سے فی مسافر فی اسٹاپ کرایہ 150 سے 300 روپے تک بن سکتا ہے، جس میں اضافہ کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے کسی نمائندے سے ملاقات نہیں ہوئی، اگرچہ سبسڈی دینے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کو بھاری جرمانوں کا بھی سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جرمانوں سے بچنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کے پاس یہی راستہ رہ جاتا ہے کہ گاڑیاں سڑکوں پر چلانے کے بجائے اڈوں پر کھڑی رکھی جائیں۔