صوبے کے ہر غریب شہری تک پیٹرول اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، وزیر اعلیٰ سندھ

مراد علی شاہ کی زیر صدارت سبسڈی سے متعلق اہم اجلاس، صوبائی وزرا و اعلیٰ حکام کی شرکت

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ بھر میں ٹرانسپوٹرز اپنے کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے اور صوبے کے ہر غریب شہری تک پیٹرول اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ روٹ پرمنٹ پر چلنے والی منی بس، بس، کوسٹر اور چھوٹے شہروں میں چلنے والی سوزوکی کے مسافروں کو ریلیف دیا جائے گا، جبکہ انٹر سٹی بسوں کے مہنگے ڈیزل کے اخراجات حکومت سندھ برداشت کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے اور خوشی ہے کہ ٹرانسپورٹرز حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ بسوں کو ایک لاکھ روپے وفاقی حکومت کے ذریعے صوبائی حکومتوں کی سبسڈی دی جا رہی ہے اور اگر فیول کی لاگت بڑھتی ہے تو سندھ حکومت ٹرانسپورٹرز سے تعاون کرے گی تاکہ اس صورتحال میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہ ہو۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سبسڈی اور عوامی ریلیف سے متعلق اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے پیش نظر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرتے ہوئے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے لیے پیکج متعارف کرانے کا مقصد کرایوں میں اضافے کو روکنا ہے تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے اور پوری قوم کو سادگی اختیار کرتے ہوئے وسائل کے محتاط استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ بجلی، گیس اور پیٹرول کی بچت وقت کی اہم ضرورت ہے، ہماری عوام باشعور ہے، لوگ حالات کو سمجھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں ریلیف پیکج کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

Load Next Story