چین کی روس کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کم کرنے کیلئے تعاون کی پیشکش

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا

فوٹو: چینی وزارت خارجہ ویب سائٹ

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مشترکہ کوششوں کے لیے روس کے ساتھ مل کر تعاون کرنا چاہتا ہے۔

چینی سرکاری خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور وزیرخارجہ وانگ یی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

وانگ یی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اہم مسائل پر بروقت رابطہ کاری برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال بہتر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں، علاقائی امن و استحکام کی حفاظت اور دنیا کے لیے سیکیورٹی بحال رکھنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر اصولی معاملات پر شفافیت اور انصاف کا اصول برقرار رکھنا چاہیے، معروضی اور متوازن مؤقف اپنائیں اور عالمی برادری سے بہترین تجاویز اور تعاون حاصل کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال مسلسل خراب، کشیدہ ہوتی جارہی ہے اور مزید بدتر صورت اختیار کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے نقل و حمل یقینی بنانے لیے بنیادی حل کا دار مدار فوری جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے پر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین ہمیشہ سے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل مذاکرات اور گفت وشنید سے حل کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔

اس موقع پر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔

موجودہ تنازع اور آبنائے ہرمز کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ روس کا مؤقف ہے کہ فوجی آپریشن فوری بند ہونا چاہیے اور تنازع کی بنیادی وجہ حل کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل کی طرف آنا چاہیے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔

سرگئی لاروف نے کہا کہ روس اس حوالے سے چین کے ساتھ قریبی رابطے اور تبادلہ خیال جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے اور بات کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

Load Next Story