قومی اسمبلی: اپوزیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ ایوان میں اٹھا دیا
فوٹو فائل
اپوزیشن جماعتوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ ایوان میں اٹھا دیا، وزیر پیٹرولیم نے بریفنگ میں کہا کہ دو سے تین ہفتے حکومت نے قیمتوں کا بوجھ اپنے اوپر لیا، خام تیل کی قیمت اپنے موبائل پر دیکھ لیں 70 ڈالر والا خام تیل 170 ڈالر تک بھی گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ اٹھا دیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپوزیشن کے احتجاج پر اپوزیشن رکن کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرنے کی اجازت دے دی۔
جے یو آئی کے رکن نور عالم خان نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ اٹھایا اور سوال اٹھایا کہ وزیر خزانہ بتائیں اگر معیشت اتنی ترقی کررہی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کیوں مہنگی کیں؟
ایم کیو ایم رکن امین الحق نے بھی ایوان میں بحث کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کیے انہیں ایوان میں زیر بحث لایا جائے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اقبال آفریدی کورم کی نشاندہی نہ کریں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر بحث کرالیتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ یہ ایوان پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، اگر اس ایوان کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو پھر کیا ہوگا؟
ایوان میں بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کردیا گیا، وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک وزیر قانون نے پیش کی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیٹرولیم مصنوعات پر ایوان میں پالیسی بیان دیا کہ جونہی جنگ کا معاملہ بڑھتا نظر آیا ہم نے فوری پلاننگ کی ہم پانچ ہفتوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور قیمتوں کے اقدامات کررہے ہیں، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ایوان کو بریف کریں گے علی پرویز ملک کے بعد میں بحث کو سمیٹ دوں گا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پالیسی بیان میں کہا کہ 28 فروری کو ایران پر حملہ ہوا، دنیا کی شپنگ لائن کی 25 سے30 فیصد سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، پوری دنیا میں ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوچکا ہے نئے حالات کو دیکھتے ہوئے پلاننگ کرنا تھی، کسی نے ایسے حالات کی تیاری نہیں کی تھی ایران پر حملے کے بعد تیاری کی گئی، قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے اقدامات کیے 100 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی، دو تین ہفتے حکومت نے قیمتوں کا بوجھ اپنے اوپر لیا، خام تیل کی قیمت اپنے موبائل پر دیکھ لیں 70 ڈالر والا خام تیل 170 ڈالر تک بھی گیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ایک راستہ یہ تھا کہ قیمتوں کو نہ بڑھایا جائے اور لوگوں کو قطاروں میں لگایا جائے، لوگوں کو تیل پر لڑنے پر چھوڑ دیاجائے، ڈیزل کی قیمت پچھلے ہفتے 280 ڈالر تک پہنچ چکی تھی، ہرمز کی بندش سے ساری سپلائی بند ہوگئی جس پر متبادل راستہ اختیار کیا گیا، وزیر اعظم، ڈپٹی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے خلیجی ممالک سے رابطے کیے، 50 تا 60 ڈالر تک اچانک اضافہ ہوا، ایل این جی کی سپلائی تک گئی دس سالہ گیس معاہدہ بے اثر ہوگیا۔
انہوں ںے کہا کہ میں بطور وزیر پیٹرولیم ہر صوبے کے وزیراعلی سے ملا، صدر مملکت کے پاس سب کو اکٹھا کیا اور قومی پالیسی بنانے کا کہا، سب نے مل کر لوگوں کو قطاروں میں کھڑا ہونے سے روکنے کا انتظام کیا، موٹر سائیکل والوں سے لے کر کسان تک سب کو آسانیاں فراہم کرنے کا طریقہ کار طے کیا گیا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ صدر، وزیراعظم، فیلڈ مارشل، چاروں وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، نگران وزیر اعلی جی بی نے مل کر تیل کی قیمتوں کا معاملہ حل کیا، قیمتوں میں اضافہ کیا تو سبسٹڈی کی اسکیموں کا بھی اعلان کیا آج لاکھوں لوگوں کو سبسٹڈی کا پیسہ منتقل ہوچکا ہے، ہمارا 90 فیصد تیل ہرمز کے ذریعے آتا تھا، سعودی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں سعودی حکومت اور یو اے ای اور عمان نے پاکستان کو خصوصی راستوں سے تیل فراہم کیا، قیمت کی حد تک تکلیف ضرور ہے مگر تیل کی قیمتوں کی کمی نہیں آنے دی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ہم نے مقامی گیس کو پائپ لائنوں میں ڈالا اور کھانے کے وقت لوگوں کو گیس دے رہے ہیں، کھاد کا بحران تیل و گیس سے بڑھ چکا ہے، کھاد کسانوں کو فراہم کرنے کے لیے 10 ملز کو گیس بلا تعطل فراہم کی گئی اور کھاد ساڑھے چار ہزار سے اوپر نہیں گئی، ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمز سے ہمارے جہاز گزرنے دئیے، خارجہ محاذ پر کوششیں کرکے ہم نے منفی اثرات سے عوام کو بچایا، وزارت آئی ٹی نے سبسڈی کے لیے شفاف نظام بنایا ہے، وزرا کمیٹی تیل و کھاد کی دستیابی اور قیمتوں کو روزانہ دو بجے دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل والوں کو سو 100 فی لٹر تین ماہ کے لیے دے رہے ہیں، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو سبسڈی دی گئی ہے، ریلوے نے کرایوں کو عام آدمی کے لیے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، ایک لاکھ روپے ماہانہ بسوں کے مالکان کو سبسٹڈی دینا شروع کردی ہے۔ شہروں کے درمیان سرکاری ٹرانسپورٹ فری کردی ہے، کسانوں کو کسان کارڈ ہاری کارڈ اور دیگر آئی ٹی کارڈز کے ذریعے سبسٹڈی دینا شروع کردی گئی ہے۔
بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں جاری بحث میں کہا کہ وزیر پیٹرولیم نے زلیخاں کی کتاب پڑھ لی لیکن یہ نہیں بتایا کہ قیمتیں کیوں بڑھائیں؟ خطے میں سب سے زیادہ قمیت آپ نے بڑھائی ہے، آپ نے اپنا جہاز اڑانے کے لیے گوبر ٹیکس لگادیا، وزیر دس دس گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، باقی دنیا نے قیمتیں کیوں نہ بڑھائیں؟ دنیا میں تین فیصد قیمت بڑھی تو آپ نے 20 فیصد قیمت بڑھائی اس کے بعد آپ نے قیمت میں 42 سے 54 فیصد اضافہ کیا، بھارت نے کمپنیوں سے منافع کم کرنے کا کہا آپ نے کیوں نہیں کیا؟ آپ نے لیوی 160 کردیا اور پھر 80 روپے کم کیا، اس بحث کو کل کے اجلاس میں بھی جاری رکھیں، بے نظیر انکم سپورٹ کو 700 ارب دیے لیکن بہاولنگر میں ایک عورت بھوک سے مرگئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان ہر فورم پر بہترین کردار ادا کرے، یہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں نہیں آتے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بطور وزیر اعظم سوالات کا جواب دیتے تھے۔
علی پرویز ملک نے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد کہا کہ بیرسٹر گوہر کو اپنے وزیراعلی کے پی نے تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا، دنیا میں 80 فیصد تک بھی قیمتیں بڑھی ہیں۔
قبل ازیں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا و ایران جنگ بندی کے لیے وزیراعظم، آرمی چیف اور اسحاق ڈار جو کوششیں کر رہے ہیں اللہ تعالی انہیں کامیاب کرے، مسلم ممالک چاہ رہے ہیں جو تنازعہ بنا ہوا ہے یہ حل ہو کیونکہ اس میں اچھا کچھ نہیں نکلے گا، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر جو تنازعہ عدالتوں میں ہے کوشش کررہے ہیں اچھے طریقے سے یہ حل ہوجائے، امید ہے اچھی خبرملے گی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول پر سبسڈی موبائل ایپ کے ذریعے دی جائے گی، وزیراعظم نے جس طرح رمضان ریلیف پیکیج دیا تھا اسی طرح موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا ہے، پاکستان کو ایران کے ساتھ تیل لینے اور کاروبار لینے کے لیے بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھا جائے گا۔
فاروق ستار
ایم کیو ایم کے رکن فاروق ستار نے ایوان میں کہا کہ پوری دنیا ایک نئے بحران سے گزر رہی ہے، اس وقت پوری دنیا میں کساد بازاری کا خطرہ ہے، غیر مستحکم معیشت کے حامل ممالک کے لیے جنگوں کے باعث پیدا ہونے والے بحران نہایت مشکل ہیں، وزیر پیٹرولیم نے اپنی استطاعت اور مجبوریوں کے بارے میں ایوان میں بتایا، ہمیں عوام کو مطمئن کرنا ہے، عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے کام تب چلایا جا سکتا ہے جب محض موٹر سائیکل سوار متاثر ہو رہے ہوں، وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی محدود پیمانے پر کام کر رہی ہے، ہمیں انتہائی غیر معمولی اقدامات اور حل کی ضرورت ہے۔
اقبال آفریدی
اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ جھوٹ آج وزیر نے ایوان میں بولا ہے، پچھلے دوسال میں سب سے زیادہ جھوٹ آج اس ایوان میں بولا گیا، آج ملکی تباہی کے ذمے دار لوگوں کو تحفظ دیا جاتا ہے، آج ملک بچانے والوں کو سزا دی جاتی ہے اس ایوان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، ہم ایران سے سستا تیل کیوں نہیں لے رہے ہیں؟
ثنا اللہ مستی خیل
اپوزیشن رکن ثنا اللہ مستی خیل نے کہا کہ پنجاب میں ایک سروے کے مطابق 30فیصد لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے پر مجبور ہیں، پنجاب میں 42 فیصد لوگوں کی قوت خرید ختم ہوگئی، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ پاشا کے مطابق پنجاب میں زراعت کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوگیا، دس کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے جاچکے ہیں، ہماری حکومت 120 ڈالر بیرل پر 150روپے پر تیل بیچ رہی تھی، آج 107 ڈالر بیرل پر ڈیزل 520 روپے کیوں بیچا جارہا ہے؟ پیٹرول پر 84 اور ڈیزل پر 75ر وپے لیوی لگائی گئی ہے، ایک سو سے ایک سو پچیس روپے ٹیکسز لیے جارہے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات پر 39 فیصد ٹیکسز لیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بتائیں جب کورونا آیا تھا تو ہماری حکومت نے کیسے ڈیل کیا تھا؟ محمد خان جونیجو کے دور کی طرح تمام جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹس اور سیاسی لوگوں کی گاڑیاں 1300سی سی کردیں، مجھے پتا چل رہا ہے کہ یہ حکومت جون میں جارہی ہے، مجھے تو لگتا تھا کہ وزیر خزانہ استعفی دیں گے مگر وہ ایوان سے ہی چلے گئے۔
بعدازاں قومی اسمبلی اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔